30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
"میرے کام کی نہ رہی،میں نے چھوڑدی،اگر آئے گی تو ناك کاٹ لُوں گا،جہاں چاہے چلی جائے،جو چاہے سوکرے"۔اور اس کو عرصہ سال بھر سے زیادہ گزرگیا،آیا طلاق پڑی یا نہیں؟وہ عورت دُوسرا نکاح کرے یانہ کرے؟خاوند نے باوجود فہمائش بھی رجوع نہ کیا،بدستور مقر اسی بات کا ہے جو کہی تھی الفاظِ طلاق صریح نہ تھے یہی تھے جو کہے،فقط۔
الجواب:
عورت کو چھوڑدینا عرفًا طلاق میں صریح ہے،خلاصہ وہندیہ میں ہے:
|
لوقال الرجل لامرأتہ تراچنگ باز داشتم او بہشتم اویلہ کردم ترااوپاے کشادہ کردم ترا فھذاکلہ تفسیر قولہ طلقتك عرفا حتی یکون رجعیا ویقع بدون النیۃ[1]۔ |
اگر کوئی شخص بیوی کو کہے"میں نے تیرا چنگل باز رکھا،تجھے چھوڑا ہے،تجھے جُدا کردیا ہے یا تیرے پاؤں کھول دئے ہیں،تویہ تمام الفاظ عرفًا"تجھے طلاق دی"کے ہم معنٰی ہیں، اس لئے ان سے رجعی طلاق ہوگی اور بغیر نیت طلاق ہوگی۔ (ت) |
"اور جہاں چاہے چلی جائے"کنایاتِ طلاق سے ہے کہ کلام میں تقدم طلاق صریح کے باعث وہ بھی تنقیحِ نیت کا محتاج نہ رہا،
|
فی التنویر کنایتہ مالم یوضع لہ واحتملہ وغیرہ فلاتطلق بھا الابنیۃ اودلالۃ الحال[2]،فی ردالمحتار المراد بھا الحالۃ الظاہرۃ المفیدۃ المقصودۃ ومنھا تقدم ذکر الطلاق،بحرعن المحیط[3]۔
|
تنویر الابصار میں ہے کہ جو لفظ طلاق کےلئے وضع نہ ہو اور طلاق وغیر طلاق کا احتمال رکھتا ہوتو ایسے لفظ سے بغیردلالت ونیت طلاق نہ ہوگی،اس پر ردالمحتار میں ہے:دلالت سے مرادیہ ہے کہ کوئی ظاہر ایسی حالت ہو جو مقصود کےلئے مفید ہوسکے اسی قبیل سے ہے کہ ان الفاظ سے قبل طلاق کا ذکر ہوچکا ہو،بحر میں محیط سے منقول ہے۔(ت) |
اور جبکہ یہ بائنہ اس طلاق صریح رجعی سے ملی وُہ بھی بائنہ ہوگئی،
|
فان البائن یلحق الرجعی وبلحوقہ یبطل |
بائنہ طلاق جب رجعی کو لاحق ہوجائے تو اب خاوند کو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع