30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فرمودہ انداگر گفت زنانے بغداد ہمہ طلاقہ اند وزنِ او نیزاز بغداد ست مطلّقہ نشود مگر آں کہ بالتعبیر نیت اوکردہ باشد فی ردالمحتار ذکر فی الذخیرۃ اولا الخلاف فی نساء اھل بغداد طالق،فعندابی یوسف وروایۃ عن محمد لاتطلق الاان ینویھا لان ھذاامرعام[1]،وفیہ ایضا عن الاشباہ عن الخانیۃ الفتوی علی قول ابی یُوسف[2] (ایں جا لفظ وطن گفتہ است کہ از بلدہ وقریہ عام ترست باز تخصیص زناں ہم نہ کرد مطلق لفظ کسے گفت کہ زناں ومرداں وپسراں ودختراں ہمہ راشامل است بالجملہ درصورت مسئولہ نکاح صحیح ولازم ست وطلاق ثابت نیست چارہ کار جزیں چیست کہ رجوع بحکومت کردہ آید تاطلاق رسد یا حقوق زنا شوئی مودی شود۔واﷲسبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔ |
کہ کوئی شخص کہے بغداد کی تمام عورتوں کو طلاق ہے اور اس کی بیوی بھی بغداد میں ہوتو اس کی بیوی کو اس وقت طلاق نہ ہوگی جب تك اس لفظ سے بیوی کی طلاق کی نیت نہ کرے۔ ردالمحتار میں ہے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے تمام بغداد والوں کی عورتوں کو طلاق تو ذخیرہ میں اوّلًا اسکے متعلق اختلاف ذکر کیا ہے کہ امام ابویوسف رحمہ اﷲتعالٰی کے نزدیك طلاق نہ ہوگی،اور امام محمد رحمہ اﷲتعالٰی کے نزدیك ایك روایت بھی یہی ہے تاوقتیکہ بیوی کی نیت سے نہ کہے،کیونکہ یہ عام بات ہے اور اس میں اشباہ اور وہاں خانیہ سے منقول ہے کہ فتوٰی اما م ابویوسف رحمہ اﷲتعالٰی کے قول پر ہے،زید نے وطن کہا ہے جو کئی شہروں اور قریوں پر مشتمل ہے،اور پھر اس نے خاص عورتوں کا ذکر نہیں کیا بلکہ صرف"وطن سے سروکار نہیں"کہا،تو وطن سب مردوں،عورتوں، بچّوں اور بچیوں کو شامل ہے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ مسئولہ صورت میں زید کا ہندہ سے نکاح صحیح ثابت ہے اور طلاق ثابت نہیں ہے، چھٹکارے کا چارہ کار یہی ہے کہ کسی شرعی حاکم کے ہاں رجوع کرے تاکہ وہ طلاق حاصل کرائے یا حقوق زوجیت بحال کرائے ۔واﷲسبحٰنہ وتعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ۲۷۴: از پیلی بھیت محلہ بشیر خاں متصل مکان مینہ شاہ مرسلہ نظام الدین شانہ گر ٢٩رمضان المبارك ١٣١١ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے اپنی عورت مدخولہ سے تین بار کہا"میں نے تجھے آزاد کیا"اس صورت میں نکاح قائم رہا یا نہیں؟اور اب اس سے نکاح کرسکتا ہے یانہیں؟بینواتوجروا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع