30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(جیسا کہ ہم نے اس کی تحقیق ردالمحتار کے حاشیہ میں کردی ہے۔ت)مگر سوقِ کلام سے ظاہر یہ ہے کہ زید نے یہ الفاظ بطور اخبار کہے،نہ نیتِ انشائے طلاق۔تیسرا لفظ دوسرے پرمعطوف ہے اور دوسرا پہلے کی شرح وبیان علّت،اور اس اخبار کا مبنٰی وُہ غلط گمان جو عوامِ زمانہ میں شائع ہے کہ عورت بے اجازتِ شوہر گھر سے چلی جائے تو نکاح سے نکل جاتی ہے اور جو اخبار واقرار طلاق بربنائے غلط فہمی مسئلہ ہو دیانۃً اصلًا مؤثر نہیں،
|
فی الخیریۃ عن الاشباہ عن جامع الفصولین والقنیۃ ،اذااقربالطلاق بناء علی ماافتی بہ المفتی ثم تبین عدم الوقوع فانہ لایقع[1]۔ |
خیریہ میں اشباہ سے اور وہاں سے جامع الفصولین اور قنیہ سے منقول ہے کہ اگر مفتی کے فتوی کی بنا پر طلاق ہونے کا اقرار کیا تو پھر معلوم ہوا کہ طلاق نہ ہوئی،تو اس اقرار کو طلاق نہ قرار دیا جائے گا۔(ت) |
خیربہر حال مدارِ کارنیت پر ہے،اگر زید نے ان تینوں لفظوں میں کُل یا بعض کسی سے طلاق دینے کا قصد کیا تھاتو ایك طلاق بائن واقع ہوئی کہ عورت راضی ہوتو اب یا عدت کے بعد جب چاہے بے حلالہ اس سے نکاح کرسکتی ہے۔عالمگیری میں ہے:
|
لایلحق البائن البائن بان قال لھا انت بائن ثم قال لھا انت بائن لایقع الاطلقۃ واحدۃ بائنۃ[2]۔ |
اگر کہا،تجھے ایك بائنہ طلاق،اس کے بعد دوبارہ کہا تجھے بائنہ طلاق،تو ایك ہی بائنہ طلاق ہوگی کیونکہ پہلے بائنہ کے بعد دوسری بائنہ اس کو لاحق نہیں ہوسکتی۔(ت) |
اور اگر ان تین میں کسی لفظ سے طلاق دینے کی نیت نہ کی اگرچہ اخیر کے دونوں لفظ بہ نیت طلاق کہے ہوں تو اصلًا طلاق نہ ہوئی وُہ بدستور اس کی زوجہ ہے اور نیتِ طلاق نہ ہونے میں شوہر کاقول قسم کے ساتھ معتبر ہے اگر وُہ بقسم کہہ دے کہ میں نے ان تینوں لفظوں میں کسی سے نیت انشائے طلاق نہ کی تھی قطعًا مان لیں گے اور انہیں زوج وزوجہ جانیں گے،اگر وہ اس قسم میں جھوٹا ہے تو وبال اس پر ہے عورت پر الزام نہیں۔درمختار میں ہے:القول لہ بیمینہ فی عدم النیۃ[3] (نیت نہ ہونے میں خاوند کی بات معتبر ہوگی۔ت)واﷲتعالٰی اعلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع