30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسی میں ہے:
|
رجل قال لامرأتہ مرابکارنیستی ونوی بہ الطلاق لایقع کذافی الظہیریۃ۔[1] |
کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا"تُومیرے لئے کام کی نہیں"تو نیت کے باوجود طلاق نہ ہوگی،جیسا کہ ظہیریہ میں ہے۔(ت) |
ہاں"وہ میری بیوی ہی نہ رہی"کنایات طلاق سے ہے۔عالمگیری میں ہے:
|
لوقال صرت غیرامرأتی فی رضاأو سخط تطلق اذانوی کذافی الخلاصۃ[2]۔ |
اگر خاوند نے رضایا ناراضگی میں کہا"تومیری بیوی نہ رہی"اگر طلاق کی نیت ہوتو طلاق ہوجائے گی،جیسا کہ خلاصہ میں ہے(ت) |
اسی طرح یہ لفظ بھی کہ"وہ میرے نکاح سے باہر ہے"صریح نہیں کنایہ ہے،
|
لان الخروج من النکاح یکون بالطلاق وبکل فرقۃ جاءت من قبلہ کتقبیلہ بنتھا اومن قبلھا کتقبیلھا ابنہ وغیر ذٰلک،فلم یتعین لافادۃ الطلاق وصار کقولہ لم یبق اولیس بینی وبینك نکاح بل ھما عبارتان عن معنی واحد،وھذایتوقف علی النیۃ فکذاذاک۔ |
کیونکہ نکاح سے خروج،طلاق کے ساتھ اور دیگر وجوہ سے بھی ہوسکتا ہے۔مثلًا خاوند بیوی کی بیٹی کا(شہوت کے ساتھ)بوسہ لے یا بیوی خاوند کے بیٹے کا اسی طرح بوسہ لے یا اس کے علاوہ بھی کئی طرح سے فرقت کے اسباب ہوسکتے ہیں،لہذا یہ لفظ طلاق کےلئے خاص نہ رہا،جب وُہ کہے"نکاح باقی نہ رہا"یا"تیرے میرے درمیان نکاح نہیں ہے"بلکہ یہ دونوں ہم معنی ہیں تو نیت پر موقوف ہوں گے،یہ بھی ایسا ہے(ت) |
عالمگیری میں ہے:
|
لوقال لھا لانکاح بینی وبینك اوقال لم یبق بینی وبینك نکاح یقع الطلاق اذانوی[3]۔ |
اگر کہا"تیرے میرے درمیان نکاح باقی نہیں رہا"اگر نیت ہوتو طلاق ہوگی ورنہ نہیں۔(ت) |
یوں ہی"وہ میرے کام کی نہ رہی"بھی کنایات سے ہے کما حققناہ فی ماعلقناہ علی ردالمحتار
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع