30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تکلیف دیتا اور مارتا ایکدن اس سے زیور مانگا اس نے انکار کیا کہا تجھے چاقو سے مارڈالوں گا ہندہ بخوفِ جان والدین کے یہاں چلی آئی شوہر نے چوری کا الزام بھی لگایا اور تھانہ میں رپٹ کاارادہ کیا لوگوں نے سمجھایا اس وقت یہ گفتگو ہُوئی جو لکھی جاتی ہے،ناصح کیا فضیحت کراؤگے۔زید:وُہ میری بیوی ہی نہیں رہی فضیحت کیسی۔ناصح:دیکھو لغو باتیں نہ کرو۔زید:جب وہ میری بلا اجازت چلی گئی میرے نکاح سے باہر ہے اور وُہ میرے کام کی نہ رہی مجھ کو اس سے کچھ غرض نہیں۔ناصح:دیکھو کنایہ اشارہ سے بھی طلاق ہوجاتی ہے ذرا سوچ سمجھ کر کہو تم پڑھے لکھے آدمی ہو۔زید:مجھ کو اس سے کچھ غرض نہیں نہ وُہ میری بیوی ہے۔آیا اس گفتگو سے وُہ عورت مطلّقہ ہوئی یانہیں؟بینواتوجروا
الجواب:
زید کا پچھلا قول کہ"نہ وُہ میری بیوی ہے"مذہبِ مختار پر اصلًا الفاظ طلاق سے نہیں یہاں تك کہ بہ نیتِ طلاق بھی کہے تاہم واقع نہ ہوگی۔عالمگیری میں ہے:
|
لوقال تُوزنِ من نئی لایقع وان نوی ھو المختار کذافی جواھرالاخلاطی[1]۔ |
اگر کہا تُومیری بیوی نہ ہے،تو طلاق کی نیت کے باوجود طلاق نہ ہوگی،یہی قول مختار ہے،جیسا کہ جواہراخلاطی میں ہے۔(ت) |
اسی طرح"مجھ کو اس سے کچھ غرض نہیں"یہ بھی لفظِ طلاق نہیں کہ غرض بمعنی شوق مستعمل ہے کما فی القاموس(جیسا کہ قاموس میں ہے۔ت)یا قصد وخواہش کما فی المنتخب(جیسا کہ منتخب میں ہے۔ت)یا حاجت کما فی شروح النصاب (جیساکہ شروح النصاب میں ہے۔ت)اور ان اشیاء کی نفی سے طلاق نہیں ہوتی اگرچہ بہ نیت طلاق اطلاق کرے۔عالمگیری میں ہے:
|
لو قال لاحاجۃ لی فیك ینوی الطلاق فلیس بطلاق کذافی السراج الوھاج اذا قال لااریدك اولااحبك اولااشتھیك اولارغبۃ لی فیك فانہ لایقع وان نوی فی قول ابی حنیفۃ رحمہ اﷲتعالٰی کذافی البحر الرائق[2]۔ |
اگر کہا"مجھے تیرے بارے کوئی حاجت نہیں"اور طلاق کی نیت کی ہوتو بھی طلاق نہ ہوگی،سراج وہاج میں ایسے ہی ہے۔اور کہا"میں تجھے نہیں چاہتا""میں تجھے پسند نہیں کرتا""تیرے بارے مجھے رغبت نہیں"اگر نیت ہوتب بھی امام ابو حنیفہ رحمہ اﷲتعالٰی کے نزدیك طلاق نہ ہوگی، بحرالرائق میں یُوں ہی ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع