30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وانت تعلم ان مسئلتنا ھذہ اقرب الی المنصوص من مسئلۃ الخیریۃ کما لایخفی۔ |
(میں کہتا ہوں کہ)ہمارا زیر بحث مسئلہ خیریہ میں بیان کردہ مسئلہ کے زیادہ قریب ہے،جیسا کہ مخفی نہیں ہے۔(ت) |
پس اگر وُہ قسم کھاکر کہہ دے کہ ان لفظوں سے میں نے طلاق دینے کی نیت نہ کی تھی قبول کرلیں گے اوروقوعِ طلاق کا حکم نہ دیں گے،
|
فی الدرالمختار القول لہ بیمینہ فی عدم النیۃ ویکفی تحلیفھا لہ فی منزلہ فان ابی رفعتہ للحاکم فان نکل فرق بینھما مجتبٰی[1]۔ |
درمختار میں ہے:نیت ہونے نہ ہونے میں خاوند کی بات قسم کے ساتھ معتبر ہوگی اور اس سے گھر میں ہی حلف لے لینا کافی ہے اور اگر وہ حلف دینے سے انکار کرے تو بیوی معاملہ کو حاکم کے ہاں پیش کرسکتی ہے تو اگر وہاں بھی حلف سے انکار پر مصررہے تو پھر حاکم خاوند بیوی میں تفریق کردے،مجتبٰی۔ (ت) |
ہاں اگر واقع میں اس نے نیت طلاق کی تھی اور اب جُھوٹی قسم کھالی تو عنداﷲطلاق ہوگئی مگر اس کا وبال شوہر پر ہے،عورت پر الزام نہیں،واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ٢٨١: از بریلی صدر مسئولہ شیخ عبدالخالق ١٧محرم شریف١٣١٤ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عبدالخالق نے اپنی عورت کو طلاق نامہ لکھا اور اس دستاویز میں ان الفاظ سے طلاق لکھی"میں لادعوٰی ہُوں یہ عورت جہاں چاہے شادی کرلے"ایسی صورت میں طلاق ہوئی یانہیں؟اور اگر عبدالخالق پھر اسے نکاح میں لانا چاہے تو ضرورتِ حلالہ ہوگی یانہیں؟بینواتوجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں جب کہ طلاق لکھنے کی نیت سے یہ الفاظ لکھے ہوں عورت پر ایك طلاق ہوگئی وہ نکاح سے نکل گئی،اب اس سے نکاح کرے تو صرف نکاح جدید برضائے زوجہ کافی ہے حلالہ کی کُچھ حاجت نہیں اگر اس سے پہلے کبھی اسے دو٢ طلاقیں نہ دے چکا ہو،واﷲسبحانہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ٢٨٢: مرسلہ حکیم احمد حسین صاحب محلہ طویلہ ٧شوال ١٣٠٨ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید وہندہ میاں بی بی میں باہم جھگڑا رہتا تھا اکثر اسے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع