30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
منزلہ[1]۔ واﷲتعالٰی اعلم۔ |
کافی ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ٢٨٠: ازمارہرہ مطہرہ مسئولہ حافظ عبدالکریم صاحب ٢٥محرم ١٣٠٦ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین بیچ اس امر کے ایك شخص نے اپنی خواشدامن وخسر ونیز رُوبرو چند عورات دیگر کے یہ کہا کہ میں تمہاری دختر سے لادعوٰی ہوتا ہوں تم اس کو بُلالو ورنہ میں اس کو بے عزّت کرکے نکال دوں گا۔اس صورت میں طلاق ہوئی یانہیں؟ بینواتوجروا۔
الجواب:
صورتِ مستفسرہ میں اگر اس نے ان لفظوں سے کہ"میں تمہاری دختر سے لادعوٰی ہوتا ہوں"طلاق دینے کا قصد کیا تھا اور بہ نیت طلاق یہ کلام کہا تھا تو طلاق واقع ہوگئی ورنہ نہیں۔فتاوٰی امام خیرالدین رملی میں ہے:
|
سئل فی رجل ضرب زوجتہ فلامہ اھلھا فقالت انت مجارۃ انی مااقربك غیرنا وطلاقا ھل تطلق بھذا القول ام لا'(اجاب)لاتطلق،ففی الخانیۃ فی قولہ لاملك لی علیک،لاسبیل لی علیك خلیت سبیلک، الحقی باھلک،لوقال ذٰلك فی حال مذاکرۃ الطلاق اوفی الغضب وقال لم انوبہ الطلاق یصدق قضاء فی قول ابی حنیفۃ وقال ابویوسف لایصدق ومعنی انت مجارۃ انت منتقذۃ معاذۃ مما تکرھینہ وھو قریب من معنی ھذہ الالفاظ[2]واﷲاعلم انتہی اقول: |
ان میں سے ایك ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گیا جس نے اپنی بیوی کو پیٹا تو خاوند کو بیوی کے گھر والوں نے ملامت کی،اس پر خاوند نے بیوی کوکہا کہ"تو محفوظ ہوگئی میں تیرے قریب نہ ہُوں گا"طلاق کی نیت نہ کی ہوتو کیا اس بات سے طلاق ہو جائے گی یا نہیں،جواب میں انہوں نے فرمایا طلاق نہ ہوگی۔تو خانیہ میں ہے:خاوند کا بیوی کوکہنا،تجھ پر میری ملکیت نہیں،تجھ پر مجھے کوئی چارہ نہیں،تیرا راستہ میں نے کھول دیا"یا کہا"تو اپنے گھر والوں کے ہاں جا"۔اگر یہ الفاظ مذاکرہ طلاق یاغصہ میں کہے اور بیان کیا کہ میں نے طلاق کی نیت سے نہیں کہے،تو امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲتعالٰی کے نزدیك قضاءً خاوند کی بات مان لی جائے گی،اور امام ابویوسف کے نزدیك قضاءً تصدیق نہ کی جائے گی"تومجارہ"کامعنٰی تو بچی ہوئی پناہ میں ہے اس چیز سے جس کو توناپسند کرتی ہے،اور یہ لفظ اوپر مذکورہ الفاظ کے قریب ہے واﷲتعالٰی اعلم انتہی اقول: |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع