30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اذھبی یحتمل رداونحوخلیۃ بریۃ یصلح سبا (الی قولہ) فی الغضب توقف الاولان ان نوی وقع والالا۔[1] |
اس لئے کہ یہ جواب بھی بن سکتا ہے اور تُوجدا ہے، تو بری ہے، یہ الفاظ ڈانٹ کا احتمال رکھتے ہیں اس کے قول کہ"غصہ میں پہلے دونوں الفاظ موقوف رہیں گے، اگر طلاق کی نیت کی تو طلاق واقع ہوگی ورنہ نہیں"تک۔(ت) |
مبسوط امام سرخسی میں ہے:
|
وعن ابی یوسف رحمہ اﷲتعالٰی انہ الحق بھذہ الالفاظ خلیت سبیلک، فارقتک، لاسبیل الیک، لاملك لی علیك لانھا تحتمل السب، ___ای لاملك لی علیك لانك ادون من ان تملکی وفارقتك اتقاء لشرك وخلیت سبیلك لھوانك علیّ٢[2] (ملخصًا) |
امام ابویوسف رحمہ اﷲتعالٰی کے نزدیك یہ"میں نے تیرا رستہ کھول دیا""میں تجھ سے جدا ہو"اور"میری تجھ پر کوئی ملکیت نہیں"کے ساتھ ملحق ہے کیونکہ یہ الفاظ ڈانٹ کا احتمال بھی رکھتے ہیں یعنی"میری تجھ پر ملکیت نہیں"کا یہ معنٰی بھی ہوسکتا ہے کہ تو اس قابل نہیں کہ میں تیرا مالك بنوں، اور میں تجھ سے جداہوا یعنی تیرے شرسے جد ا ہوں، میں نے تیرا راستہ کھولا کیونکہ میرے ہاں تو حقیر ہے(ملخصًا) (ت) |
فتح القدیر میں ہے:
|
یدین فی الغضب لان ھذہ الالفاظ تذکر للابعاد وحالۃ الغضب یبعد الانسان عن الزوجۃ۔[3] |
غصہ میں ان الفاظ کے متعلق خاوند کی تصدیق کی جائیگی کیونکہ یہ الفاظ دور کرنے کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں جبکہ غصّہ کی حالت میں انسان بیوی سے دور رہتا ہے۔(ت) |
یہ بات کہ ان میں اصلًا کسی لفظ سے طلاق کی نیّت نہ کی تھی اگر زید قسم کھاکر کہہ دے قبول کرلیں گے اورحکمِ طلاق نہ دیں گے اگر زید جُھوٹی قسم کھائے گا وبال اس پر ہوگا یہ قسم گھر میں عورت بھی کرسکتی ہے۔درمختار میں ہے:
|
ویکفی تحلیفھا لہ فی |
عورت کا مردسے گھر قسم لینا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع