30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دل چاہے چلی جاؤ خواہ تم دوسرا خاوند کرلو خواہ بلا خاوند رہو، مگر بی بی چند باریہ الفاظ سُن کر بھی خاموش تہی تو کچھ دن کے بعد یہ کہا کہ مجھ کو افسوس ہے کہ کیسی بے حیا عورت ہے کہ میں خوشی سے اجازت چلے جانے کی دیتاہوں اور میرا پیچھا نہیں چھوڑتی جب بی بی پر یہ ملامت ڈالی تو بی بی نے جانے کی تیاری کی تو زید نے کاغذات دیہہ زمینداری بی بی جس کا زید کا رکن تھا حوالہ کردئے تو اب اس مسئلہ میں شرع شریف کا کیا حکم ہے اور بیوی اب زید سے راضی نہیں ہے اور زید سے قطع تعلق کرتی ہے۔
الجواب:
یہ الفاظ کنایہ ہیں نیّت پر حکم ہے،اگر زید نے بہ نیّت طلاق کہے ایك طلاق ہوگئی اور عورت نکاح سے نکل گئی، اس سے بلاحلالہ اس کی رضا مندی سے دوبارہ نکاح کرسکتا ہے جبکہ اس سے پہلے اس عورت کو دو٢ طاقیں نہ دے چکاہو، اور اگر وُہ قسم کھاکر انکار کردے کہ میں نے یہ الفاظ بہ نیتِ طلاق نہ کہے تھے تو طلاق نہ مانی جائے گی، اگر زید جھوٹی قسم کھائے گا وبال اس پر رہے گا۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ٢٧٩: از آرہ مسئولہ مولوی عبدالغفور صاحب ١٣شعبان ١٣٣٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ زید نے اپنی بی بی منکوحہ زینب سے کہا بصورت نااتفاقی کہ ہم تمہارے ہاتھ کا کھانا نہیں کھائیں گے، تب اس پر بی بی مذکور نے کہا کہ جب کھانا نہیں کھاؤگے تو ہم کو صفائی دے دو تب زید نے کہا کہ صفائی دے دیا بی بی نے کہا صفائی دے دیا تو پھر کہا کہ صفائی دے دیا پھر بی بی نے کہ صفائی دے دیا تو پھر کہا صفائی دے دیا تو بی بی نے کہا کہ تب ہم کہیں چلے جائیں تو زید نے کہا کہ کہیں چلی جاؤ اس صورت مذکورہ میں طلاق مغلظہ واقع ہوا کہ نہیں اگر طلاق واقع نہیں ہو اتوکیا دلیل بحوالہ کتب معتبرہ تحریر فرمائیں،بینواتوجروا
الجواب:
صورتِ مذکورہ میں طلاقِ مغلّظ تو کسی طرح نہ ہوئی فان البائن لایلحق البائن١[1]کما فی المتون (کیونکہ بائنہ طلاق بائنہ کو لاحق نہیں ہوتی، جیسا کہ متون میں ہے۔ت)ہاں اگر ان چار لفظوں میں جو زید نے کہے اگر کسی ایك لفظ یا دوتین یا چاروں سے عورت کو طلاق دینے کی نیت زید نے کی تو ایك طلاق بائن ہوگئی عورت نکاح سے نکل گئی عورت کی رضاسے اس سے نکاح دوبارہ کرسکتا ہے اور اگر اصلًا کسی لفظ سے نیتِ طلاق نہ کی تو وُہ بدستور اس کی زوجہ ہے طلاق نہ ہوئی، درمختار میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع