30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ردالمحتار میں شرح جامع صغیر امام قاضی خاں سے ہے:
|
لوقال اذھبی فتزوجی وقال لم انوالطلاق لایقع شیئ لان معناہ ان امکنک١ [1]۔واﷲتعالٰی اعلم۔ |
اگر کچھ نیت نہ کی تو طلاق نہ ہوگی کیونکہ اس کے کہنے کا مقصد یہ ہوگا کہ تجھے ممکن ہوتو نکاح کر(جبکہ طلاق کے بغیر ممکن نہیں، تو طلاق نہ ہوگی) واﷲتعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ٢٧٧: ازموضع نان ٹو ڈاکخانہ اکبر آباد ضلع علی گڑھ مسئولہ محمد تحسین علی صاحب یکم رجب المرجب ١٣٣٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی بیوی کو بدچلنی اور بدکاری کے الزام لگائے اور اس سے کہا کہ میں نے تجھے چھوڑدیا تُو میرے کام کی نہیں مگر زید کہتا ہے کہ میں نے ہرگز طلاق نہیں دی، تو کیا اس صورت میں ادائے لفظِ طلاق زید کی بیوی زید کے نکاح سے خارج ہوگی یانہیں؟
الجواب:
اگر یہ بیان واقعی ہے تو دو٢ طلاقیں بائن ہوگئیں، عورت نکاح سے خارج ہوگئی، اگر پہلے کبھی اسے کوئی طلاق نہ د ی تھی تو عورت کی مرضی سے اس سے دوبارہ جدید مہر کے ساتھ نکاح کرسکتا ہے اور پھر کبھی ایك طلاق دے گا تو تین ہوجائیں گی اور بے حلالہ نکاح نہ کرسکے گا، اور اگر اس وقت عورت اس سے دوبارہ نکاح پر راضی نہیں تو یہ اس پر جبر نہیں کرسکتا، اور اگر پہلے کبھی ایك طلاق اسے دے چکا تھا تو ابھی تین طلاقیں ہوگئیں، بے حلالہ نکاح نہیں کرسکتا،
|
وذٰلك لان اللفظ الاول صریح والثانی کنایۃ یحتمل السب وقدصار الحال باللفظ الاوّل حال المذاکرۃ فوقع بہ بائن فجعل الاوّل ایضًا بائنا۔ واﷲتعالٰی اعلم۔ |
یہ اسلئے کہ پہلا لفظ طلاق میں صریح ہے،اور دوسراکنایہ ہے جو کہ ڈانٹ کا احتمال بھی رکھتا ہے جبکہ پہلے لفظ کی وجہ سے مذاکرہ طلاق کی حالت ہوگئی تو اس قرینہ کی وجہ سے کنایہ کا لفظ بھی طلاق بائنہ قرار پائے گا جس کی وجہ سے صریح طلاق بھی بائنہ کے حکم میں ہوجائے گی۔ واﷲتعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ٢٧٨: ازپیلی بھیت محلہ پکریامسئولہ بشیر احمد صاحب ١٥ رجب ١٣٣٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسمّی زید جس کی علمی لیاقت علم عربی میں قریب دستاربندی ہے اب بیوی کو چند باریہ الفاظ بحالت صحت نفس کہے کہ میں تم کو خوشی سے اجازت دیتا ہوں کہ جہاں تمہارا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع