30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بحضرتھم سوٰی زوجت نفسی من فلان لاینعقد لان سماع الشطرین شرط باسماعہم الکتاب اوالتعبیرعنہ منھا قد سمعوا الشطرین بخلاف ما اذا انتفیا[1]۔ |
سنائے بغیرمجلس میں موجود گواہوں کو صرف یہ کہے کہ میں نے اپنا نکاح فلاں سے کردیا ہے تو نکاح نہ ہوگا کیونکہ گواہوں کا ایجاب اور قبول دونوں باتوں کو ایك مجلس میں سننا ضروری ہے، تو عورت کا گواہوں کو منگنی کا خط سنانا یا منگنی کو فلاں کی طرف سے ذکر کرنا اورپھر اپنی طرف سے قبولیت کو ذکر کرنے سے نکاح کے دونوں رکن گواہوں نے ایك مجلس میں سُن لئے، اس کے برخلاف اگر یہ چیز منتفی ہوتو نکاح نہ ہوگا۔(ت) |
اور بلاشبہ قاعدہ عامہ یہی ہے کہ جوشخص کوئی کاغذ لائے اور دوسرے سے اس پر دستخط یا مہر کرائے تو اگر وُہ حرف بحرف پڑھ کر نہ سنائے گا تو حاصل مضمون ضرور بتائے گا یا وہ نہ بتائے تو یہ مہر کرنے والا پوچھ لے گا کہ اس میں کیالکھا ہے پس اگر ایسا ہی ہوا اور عبدالغفور خاں نے اس کے مضمون پر مطلع ہو کر مہر کی تو اب وقت مہر سے شاہد النساء پر طلاق پڑگئی اور شاید اس کے خلاف ہی واقع ہوا اور بے اطلاع مضمون مہر کردی تو البتّہ طلاق نہ ہوئی، بالجملہ اگر یہ پچھلی صورت واقع ہے جب تو شاہدالنساء بدستورنکاح نکاح عبدالغفور خاں میں ہے اور اگر وہ پہلی دو٢ صورتیں واقع ہوئیں تو ایك صورت پر تحریر پسر اور دوسری صورت پر مہر کرنے کے وقت طلاق پڑی بہر حال ایك طلاق سے زائد نہ ہوئی اگر اس سے پہلے کبھی دو٢ طلاقیں نہ دے چکا تھاتو بے تکلّف اس سے نکاح کرسکتا ہے حلالہ کی کچھ حاجت نہیں،ھذاکلہ ماظھر للعبد الضعیف والعلم بالحق عندالخبیر اللطیف (یہ تمام وہ ہے جو اس عبد ضعیف(مصنف) پر ظاہر ہوا، جبکہ حقیقت کا علم علیم خبیر کے پاس ہے۔ت)واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ٢٧٣: از مانگرول بندر کاٹھیا واڑ تائی باڑی مرسلہ فتح محمد بن نور محمد جمعدار ٢٤ربیع الاول ١٣٣٦ھ
حضرت قبلہ گاہ مولٰنا صاحب سلمہم اﷲتعالٰی از جانب مانگرول بندر فدوی خاکسار فتح محمد ابن نور محمد جمعدار کے ازحد آداب وتسلیمات کے واضح ہوکہ میں نے میری عورت کو پڑوسی کے ساتھ تکرار کرنے میں منع کرنے سے نہ ماننے کے سبب غصّہ میں طلاق فارقتی لکھ کے اس کی والدہ کے اس کو فارقتی بھیج دی، پھر بہت پچھتایا، ایك اور بچّہ بھی صغیر برس روز کا ساتھ ہے اس کے بعد دونوں کو تڑپ بے حد ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع