30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بنفسہ[1]اھ، ومثلہ فی الخلاصۃ قلت ولعل ھذاھو محمل مافی الھندیۃ عن المحیط عن المنتقی وفی ردّالمحتار عن التاترخانیۃ ان کل کتاب لم یکتبہ بخطہ ولم یملہ بنفسہ لایقع الطلاق بہ اذالم یقرانہ کتابہ٢ [2]اھ فان الاقرار کما یکون صریحا فکذالك دلالۃ۔ |
طلاق نامہ لکھا ہو اھ، اور خلاصہ میں بھی ایسا ہے قلت(میں کہتا ہوں) ہندیہ میں محیط سے اور انہوں نے منتقٰی سے اور ردالمحتار میں تاتارخانیہ سے جو ذکرکیا کہ جو طلاق نامہ خاوند نے خود نہ لکھا نہ لکھوایا تو اس سے طلاق نہ ہوگی تاوقتیکہ خاوند اس تحریر کی تصدیق نہ کردے کہ یہ میری کارروائی ہے، تو بزازیہ کی مذکورہ عبارت کا محمل بھی یہی ہے کیونکہ جس طرح اقرارصراحتًا ہوتا ہے یونہی دلالۃً بھی ہوسکتا ہے(ت) |
اور پُرظاہر کہ تنفیذ کے لئے صرف مضمون پر مطلع ہونا درکار ہے اور وُہ اس میں منحصر نہیں کہ حرف بحرف اسے پڑھواکر سنے بلکہ آپ پڑھ لے یا دیکھ لے یا دوسرا پڑھ دے یا اس کا خلاصہ مضمون بتادے ہر طرح حاصل ہے۔
|
فقول البزازیۃ قرأہ علی الزوج غیر قید بل تصویر لاطلاع الزوج علی مافیہ فانہ لامعنی لتنفیذ ما لایدری۔ |
تو بزازیہ کا قول کہ"خاوند پر پڑھے اور سنائے"قید نہیں ہے بلکہ خاوند کوطلاق نامہ کی تحریر پر اطلاع کی ایك صورت ہے کیونکہ خاوند کے علم کے بغیر اس کی طرف سے کارروائی بے معنٰی ہے(ت) |
اشباہ میں ہے:
|
قال فی فتح القدیر وصورتہ ان یکتب الیھا بخطبھا فاذا بلغھا الکتاب احضرت الشھودوقرأتہ علیھم وقالت زوجت نفسی منہ، او تقول ان فلانا کتب الی یخطبنی فاشھدوا انی قدزوجت نفسی منہ، امالولم تقل |
فتح القدیرمیں فرمایا: اس کی صورت یہ ہے کہ مرد عورت کو خط لکھے اور اس نکاح کے پیغام کوکوئی لے جاکر عورت کو پیش کرے، عورت گواہوں کو حاضر کرکے انہیں خط سنائے اور پھر یُوں کہے کہ میں نے فلاں سے اپنا نکاح کیا، یا یُوں کہے کہ فلاں نے مجھے منگنی کا پیغام لکھا ہے تو تم گواہ بن جاؤ کہ میں نے اپنا نکاح اس سے کردیا ہے۔ لیکن اگر عورت نکاح کا پیغام |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع