30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بائن پڑگئی، عبدالغفور خاں کا اس تحریر کو پڑھنا سُننا کچھ ضرور نہ تھا،
|
فانہ انما عمل بموجب التفویض والمفوض مملك والمملك یعمل بمشیۃ نفسہ من دون توقف علی رضا المملك بالکسر حتی لو رجع بعد ماملك لم یملك الرجوع کما تقدّم۔ |
کیونکہ اس نے تفویض کے مطابق عمل کیا ہے،اور جس کو تفویض کیا گیا ہو وہ مالك بنادیا جاتا ہے اور جس کو مالك بنایا گیا ہو وہ اپنی مرضی سے عمل کرتا ہے اور مالك بنانے والے کی مرضی پر موقوف نہیں رہتا، حتی کہ جب کسی کومالك بنادیا تو اب مالك بنانیوالا واپس لینے کا مالك نہیں رہتا، جیسا کہ پہلے گزرا۔(ت) |
اور اگر یہ اٹھ کرجانا بے ضرورت یا ضرورت تحریر سے جدا کسی اور غرض کے لئے تھایا وُہ تحریر اس نے کسی اور سے لکھوائی تو ان صورتوں میں اُس اختیار کی بناء پر نہ ہُوابلکہ ایك فضول واجنبی کا لکھنا تھا،
|
فان المفوض الیہ بفصل اجنبی یصیراجنبیا، وھو انما فوض الیہ التطلیق دون التوکیل کما ان الوکیل بالطلاق لایملك ان یوکل غیرہ اویجیز مافعل غیرہ کما نص علیہ فی الانقروی من الخانیۃ۔ |
جس کوکوئی اختیار سونپا جائے تو اجنبی شخص سے دخل کی وجہ سے وہ بھی اجنبی ہوجاتا ہے کیونکہ مالك نے اس کو طلاق دینے کااختیار سونپا ہے نہ کہ دوسرے کو وکیل بنانے کا اختیار سونپا، جس طرح وکیل بالطلاق دوسرے کو وکیل بنانے کا مجاز نہیں اور نہ ہی وہ دوسرے کے عمل کے اس میں جائز کرسکتا ہے جیسا کہ انقروی نے خانیہ سے نقل میں اس کی تصریح کی ہے۔(ت) |
اور فضولی شخص جسے شوہر کی طرف سے امر یا اذن تحریر نہیں یا نہ رہا وُہ اگر عورت کی طلاق لکھ لائے تو اس کا نفاذ اجازتِ شوہر پر موقوف رہتا ہے اگر وہ اس کے مضمون پر مطلع ہوکر اس تحریر کو نافذ کردے مثلًا صراحۃً کہہ دے کہ میں نے جائز کیا یا اجازت دی یانفاذ دیا کوئی فعل ایسا کرے جونافذ کرنے پر دلیل ہو مثلًا اس پر اپنے دستخط کردے یا اپنی طرف سے عورت کے پاس روانہ کرے یا بھیجنے کوکہے تو وہ تحریر نافذ ہوجاتی اور گویا خود شوہر کی تحریر قرار پاتی ہے ورنہ نہیں،
|
فی البزازیۃ قبیل مسائل المجازاۃ کتب غیرالزوج کتاب الطلاق وقرأہ علی الزوج فاخذہ وختم علیہ اوقال لرجل ابعث ھذاالکتاب الیھا فھذا بمنزلۃ کتابتہ |
بزازیہ میں اجازت کے مسائل سے تھوڑا پہلے ہے کہ زوج کے غیر نے طلاق نامہ لکھا اور پھر اس کو خاوند پر پڑھا تو خاوند نے لے کراس پر مہر لگائی یا دوسرے کسی شخص کو کہا یہ طلاق نامہ میری بیوی کو جاکردے دو، تو یہ کارروائی ایسے ہی ہوگی جیسے خاوند نے خود |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع