30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مانگتا نہیں ، یہ تو محض بے اثر تھا کہ اس کے معنی نفی خواہش وطلب وارادہ ہے اور ان کی نفی سے طلاق نہیں ہوتی اگرچہ بہ نیتِ طلاق کہے،
|
فی الھندیۃ اذاقال لااریدک، اولااحبک، اولا اشتھیک، اولارغبۃ لی فیک، فانہ لایقع وان نوی فی قول ابی حنیفۃ رحمہ اﷲتعالٰی کذافی البحرالرائق۔[1] |
ہندیہ میں ہے: جب خاوند نے کہا، میں تجھے نہیں چاہتا،یا، میں تجھے پسند نہیں کرتا، میں تیری خواہش نہیں کرتا،یا، مجھے رغبت نہیں، ان الفاظ سے طلاق نہ ہوگی اگرچہ طلاق کی نیت ہو، یہ امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲتعالٰی کے قول میں ہے، بحر الرائق میں یونہی ہے۔(ت) |
اور فارغ خطی کی اصل وضع اس کاغذ کے لئے ہے جو مدیون کو بابت بے باقی وبرأت ذمہ لکھ کردیا جاتا ہے جس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اب اس پر کچھ مطالبہ نہ رہا، یہ لفظ جب عورت کی طرف نسبت کیا جائے تو اس سے مراد عورت کو لکھ دینا ہوتا ہے کہ وہ اس کے مطالبہ وحقوق نکاح سے بری ہوئی جس کا حاصل طلاق نامہ بائن تحریری تھی
|
علاانہ ھو الحقیقۃ العرفیۃ کما علمت فھو ظاھر بنفسہ وان لم یکن ھناك مظہرلہ ۔ |
اس کے علاوہ یہ حقیقت عرفیہ ہے جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ یہ خود ظاہر ہے اگرچہ کوئی دوسری چیز اس کو ظاہرنہ کرے۔ (ت) |
پسر عبدالغفور خاں نے جبکہ اس سے فارغ خطی دینے کی درخواست کی اور اس نے کہا تم کو اختیار ہے تو یہ طلاق بائن تحریری کا اسے اختیار دینا ہُوا، مرد جسے اپنی عورت کو طلاق کا اختیار دے اس میں حکم یہ ہے کہ وہ اختیار اسی جلسہ تك باقی رہتا ہے اگر وہ شخص بلاضرورت خواہ کسی ایسی ضرورت کیلئے جو اس کار طلاق سے متعلق نہ تھی اُٹھ جائے یا وہیں بیٹھا کسی اور کام بلکہ بے علاقہ کلام میں مشغول ہوجائے تو وُہ اختیار زائل ہوجاتا ہے،
|
فی الھندیۃ عن الخلاصۃ عن الصغرٰی لوقال لاجنبی امرامرأتی بیدک، یقتصر علی المجلس ولایملك الرجوع٢[2] اھ وفیھا |
اگر کسی اجنبی کو کہا، کہ، میری بیوی کا اختیار تیرے ہاتھ میں ہے، تو اختیار اسی مجلس کے لئے ہوگا، اور رجوع کا اختیار نہ ہوگا اھ اور اسی میں خانیہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع