30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یقول ولافی حیض قبلہ ولاطلاق فیھما ولم یظھر حملھا ولم تکن آیسۃ ولاصغیرۃ کما فی البدائع لانہ لو طلقھا فی طھر وطئھا فی حیض قبلہ کان بدعیا، وکذا لوکان قد طلقھا فیہ وفی ھذاالطھر،لان الجمع بین تطلیقتین فی طھر واحد مکروہ عندنا[1]، قولہ فی حق غیرھا ای فی حق من بلغت بالسن ولم تر دما اوکانت حاملا او صغیرۃ لم تبلغ تسع سنین علی المختار او اٰیسۃ بلغت خمس وخمسین سنۃ علی الراجح، اما ممتدّۃ الطھر فمن ذوات الاقراء لانہا شابۃ رأت الدم فلایطلقھا للسنۃ الاواحدۃ مالم تدخل فی حدّ الایاس[2]، قال فی الذخیرۃ عن المنتقی لاباس بان
|
کہ مصنف کی کلام دُوسروں کی نسبت اولٰی ہے کیونکہ دُوسروں نے یُوں کہا ہے کہ خاوند نے اس طُہر میں وطی نہ کی ہو، لیکن مصنف کی کلام میں یہ کہنا بھی ضروری تھا کہ اس طُہر سے قبل حیض میں بھی وطی نہ ہو اور نہ طلاق ہو،اور حمل ظاہر نہ ہو اور بوڑھی اور نابالغہ نہ ہو، جیسا کہ بدائع میں ہے کیونکہ اگر ایسے طُہر میں طلاق دی جس سے قبل حیض میں وطی کی ہو تو وہ طلاق بدعی ہوگی اگرچہ طُہر میں وطی نہ ہو، اور یُوں ہی اگر اس حیض میں طلاق کے بعد طُہر میں طلاق دی ہو کیونکہ ایسی صورت میں ایك طہر میں دو٢ طلاقیں شمار ہوں گی جو کہ ہمارے ہاں مکروہ ہے۔ اور ماتن کا قول کہ"اس کے غیر میں"یعنی وُہ عورت حیض کی بجائے عمر کے حساب سے بالغ قرار پائے اور اس نے کسی حیض کا خُون نہ دیکھا اور نہ پایا، یا عورت حاملہ ہو، یا ایسی نابالغہ جو نو٩سال سے کم عمر والی ہو مختار قول کے مطابق، یاآئسہ (وہ عورت جوپچپن ٥٥سال کو پہنچ چکی ہو) راجح قول کے مطابق، یا حیض والی عورتوں میں وُہ عورت جس کا طُہر دراز مدّت تك ختم نہ ہو، کیونکہ نوجوان عورت جس کو خونِ حیض آچکا ہے تو اس کو سنت طلاق صرف ایك ہی ہوگی جب تك وُہ حدایاس تك نہ پہنچی ہو۔ ذخیرہ میں منتقی سے منقول ہے: اگر بیوی سے کوئی ناپسندیدہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع