30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی الدرطلقۃ رجعیۃ فقط فی طھر لاوطی فیہ احسن، وطلقۃ لغیر موطؤۃ ولو فی حیض، ولموطوئـۃتفریق الثلث فی ثلاثۃ اطھار لاوطی فیھا ولافی حیض قبلھا ولاطلاق فیہ فیمن تحیض وفی ثلثۃ اشھر فی حق غیرھا حسن وسنی، وحل طلاق الاٰیسۃوالصغیرۃ و الحامل عقب وطی لان الکراھۃ فیمن تحیض لتوھم الحبل، والبدعی ماخالفھما والخلع فی الحیض لایکرہ والنفاس کالحیض [1]اھ ملخصا، قال الشامی قولہ لاوطء فیہ لم یقل، منہ، لیدخل فی کلامہ مالووطئت بشھۃ، فان طلاقھا فیہ حینئذ بدعی نص علیہ الاسبیجابی،وبھٰذا عرف ان کلام المصنف اولی من قول غیرہ لم یجامعھافیہ لکن لابدان
|
ہے الخ،اور دُر میں ہے کہ ایك رجعی طلاق ایسے طُہر میں جس میں وطی نہ کی ہو فقط وہی احسن طلاق ہے اور غیر موطؤہ بیوی کو اگرچہ حیض کے دوران ایك طلاق اور وطی شدہ کو تین طُہروں میں تین طلاقیں متفرق کرنا جن میں وطی نہ ہوئی اور نہ ایسے طُہر سے پہلے حیض میں وطی ہو اور نہ طلاق ہو حیض والی کے لئے، اور تین مہینوں میں تین طلاقیں متفرق کرنا جن میں وطی نہ ہوئی ہو اور نہ ایسے طہر سے پہلے حیض میں وطی ہو اور نہ طلاق ہو، حیض والی کے لئے، اور تین مہینوں میں تین طلاقیں متفرق کرنا جس کو حیض نہ آتا ہو ،تو ایسی طلاقیں حسن اور سنی ہوں گی۔ اور بوڑھی، نابالغہ اور حاملہ کو وطی کے بعد طلاق دینا حلال ہے کیونکہ وطی کے بعد طلاق دینا اسلئے مکروہ ہے کہ حمل ٹھہرنے کا احتمال ہوتا ہے جو کہ جوان حیض والی میں ہوسکتا ہے، اور بدعی طلاق وُہ ہے جوان مذکورہ دو٢قسموں(احسن اور حسن) کے خلاف ہو، اور حیض میں خلع مکروہ نہیں اور نفاس بھی حیض کا حکم رکھتا ہے اھ ملخصا۔ علامہ شامی نے فرمایا: ماتن کا قول"وُہ طہر جس میں وطی نہ ہو"کہا، یہ نہ کہا کہ اس خاوند سے وطی نہ ہوئی ہو، یہ اس لئے تاکہ کلام شبہہ سے وطی کو بھی شامل ہوسکے، کیونکہ ایسی صورت میں بھی طلاق بدعی ہوگی جیسا کہ ا س پر اسبیجابی نے نص کی ہے۔اوراس سے معلوم ہُوا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع