30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
٧١تجھ بر دو برس تك طلاق ہے،اس میں دو برس بعد پڑے گی،
|
فی الخیریۃ قال لھا انت طالق الی سنتین ولانیۃ لہ فما الحکم،اجاب یقع علیھا بعد السنتین طلقۃ واحدۃ رجعیۃ صرح بہ صاحب البحر والبزازیۃ والولو الجیۃ وغیرھم من کتب الحنفیۃ۔١[1] |
خیریہ میں ہے:اگر بیوی کو کہا"تجھے دو٢سال پر طلاق"اور کوئی خاص نیّت نہ کی ہوتو کیا حکم ہے،تو جواب دیا کہ دو٢سال بعد رجعی طلاق ہوگی اس کی تصریح بحر،بزازیہ اور ولوالجیہ وغیرہ کتبِ حنفیہ میں موجود ہے۔(ت) |
٧٢تجھ پر یہاں سے عرب تك طلاق،اور اگر یُوں کہا کہ اتنی لمی یا بڑی طلاق تو بائن ہوگی،
|
فی الدروبقولہ من ھنا الی الشام واحدۃ رجعیۃ مالم یصفھا بطول اوکبر فبائنۃ۔[2] |
درمیں ہے:خاوند نے کہا"تجھے یہاں سے ملك شام تك طلاق ہے تو ایك رجعی طلاق ہوگی بشرطیکہ اس نے طلاق کو کسی طوالت یا بڑائی سے موصوف نہ کیاہو،اور اگر ایسی صفت سے موصوف کیا تو بائنہ ہوگی(ت) |
٧٣تو فلاں عورت سے زیادہ مطلّقہ ہے،طلاق ہوجائے گی اگرچہ فلاں عورت مطلقہ نہ بھی ہو،
|
بخلاف مالوقال بالعربیۃ انت اطلق من فلانۃ فلاتطلق الابالنیۃ بشرط ان تکون فلانۃ مطلقۃ فقد عد فی الدر قولہ انت اطلق من امرأۃ فلان وھی مطلقۃ[3]،من الکنایات التی یقع بھا الرجعی،قال الشامی عﷲ فی الفتح بان افعل التفضیل لیس صریحا فافھم [4]اھ بخلاف مانحن فیہ فانہ مطلقۃ صریحۃ ولایعتریہ الاحتمال بزیادۃ فما فیہ الاثبات الطلاق |
بخلاف اس کے جب بزبان یُوں کہا"انت اطلق من فلانۃ"تو نیّت کے بغیرطلاق نہ ہوگی،نیت سے بھی تب ہوگی جب وُہ فلاں عورت مطلقہ ہو،خاوند کے اس قول کہ"تجھے فلاں کی عورت سے بڑی طلاق بشرطیکہ وُہ فلاں کی عورت مطلقہ ہو تو در میں اس کو ان کنایات میں شمار کیا ہے جن سے ایك رجعی طلاق ہوتی ہے۔علامہ شامی نے اس پر فرمایا کہ فتح میں اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ صیغہ تفضیل طلاق میں صریح نہیں ہے،غور کرواھ،اس کے برخلاف وُہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع