30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی ردالمحتار عن البحر من الصریح المضارع اذاغلب فی الحال[1]اھ قلت فکیف اذا تمحض لہ وچھوڑنا من الصریح بلساننا۔ |
ردالمحتار میں بحر سے منقول ہے کہ مضارع کا صیغہ جب حال کے لئے غالب الاستعمال ہوتو یہ طلاق صریح میں شمار ہوگا،قلت(میں کہتا ہوں)اور اگر خالص حال کے لئے ہوتو پھر طریق اولٰی صریح ہوگا جبکہ"چھوڑنا"کالفظ ہماری زبان میں طلاق میں صریح ہے(ت) |
ہاں اگر عزم وارادہ کی نیت پر کہے گا بایں معنٰی کہ تجھے طلاق دیا چاہتا ہوں تو عنداﷲطلاق نہ ہوگی،
|
فی الخیریۃ یدین علی کل حال أی ولو غلط فی الحال[2]۔ |
فتاوٰی خیریہ میں ہے:مضارع میں خاوند کی بات پر دیانۃً تصدیق بہرحال ہوگی اگرچہ وہ مضارع،حال کے معنٰی میں غالب ہو۔ (ت) |
٧٠تجھ پر دو٢ مہینے سے طلاق ہے اور واقع میں نہ دی تھی ابھی پڑگئی بشرطیکہ نکاح کو دو٢ مہینے سےکم نہ ہوئے ہوں ورنہ کچھ نہیں،اور اگر جُھوٹی خبر کی نیت تھی تو عنداﷲکچھ نہیں یہ ہر صیغہ میں جاری ہے،
|
کمافی الخیریۃ وغیرھا وفیہ ایضاقال لھا انت مطلقۃ من شھرین ویقول نویت الاخبار فی الماضی کاذباھل یقع علیہ الطلاق ام لاواذا قلتم یقع ھل لہ ان یردھا ام لا، اجاب یقع قضاء لادیانۃ وعلی حکم القضاء لہ مراجعتھا فی العدۃ بغیرعقد وبعدھا بعقدجدید حیث لم یصدر منہ سوٰی ماذکر،[3]وفی الدروکذاانت طالق امس وقد نکحھا الیوم ولونکحھا قبل امس وقع الاٰن لان الانشاء فی الماضی انشاء فی الحال٤[4]۔(ملخصًا) |
خیریہ وغیرہ میں جیسے ہے کہ اگر کہا"تُودو٢ ماہ سے مطلقہ ہے،اور اس کے بعد کہا کہ میں نے یہ ماضی کی خبر کاذب کے طور پر کہا ہے،تو کیا اس پر طلاق ہوگی یانہیں اور اگر آپ فرمائیں کہ طلاق ہوگی تو اس کو رجوع کا حق ہوگا یا نہیں،اس کا جواب دیا کہ قضاءً طلاق ہوگی دیانۃً نہ ہوگی،اور قاضی کے فیصلہ پر اس کو عدت میں بغیر نکاح اور عدّت کے بعد جدید نکاح سے رجوع کا حق ہوگا،جبکہ مذکورہ کارروائی کے علاوہ خاوند نے کچھ اور نہ کہا ہو،اور دُر میں ہے کہ یُونہی اگر خاوند نے کہا"تو گزشتہ روز سے طلاق والی ہے"تو اگر نکاح آج کیا ہوتو یہ بات لغوہوگی اور گزشتہ روز سے قبل نکاح کیا ہوتو ابھی سے طلاق ہوجائیگی کیونکہ ماضی کا انشاء حال کا انشاء متصور ہوگا(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع