30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی الھندیۃ وفی المحیط لوقال بالعربیۃ اطلق لایکون طلاقا الااذا غلب استعمالہ للحال فیکون طلاقا[1]، وفیھا عن الخلاصۃ قالت طلاق بدست مرا طلاق کن فقال الزوج طلاق میکنم طلاق میکنم وکرر ثلثا طلاقت ثلثا بخلاف قولہ کنم لانہ استقبال فلم یکن تحقیقا بالتشکیک۔٢[2] |
ہندیہ میں ہے:اور محیط میں ہے اگر عربی میں مضارع (اطلق)کہا تو طلاق نہ ہوگی،مگر جب یہ لفظ غالب طور پر حال کے لئے استعمال ہوتا ہو توطلاق ہوجائے گی،اور ہندیہ میں خلاصہ سے منقول ہے کہ بیوی نے خاوند کو کہا"طلاق تیرے اختیار میں ہے مجھے طلاق کردے"تو خاوند نے اگر جواب میں یہ کہا"میں طلاق کررہا ہُوں طلاق کررہا ہوں"تین مرتبہ تکرار کیا تو تین طلاقیں ہوں گی،اس کے برخلاف اگر یُوں کہے"میں کروں گا"تو طلاق نہ ہوگی کیونکہ یہ استقبال ہے لہذا شك ہوگا اور طلاق نہ ہوگی۔(ت) |
٦٩میں تجھے طلاق چھوڑتا ہوں،
|
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) انھا طالق حیث تطلق قال الرجل ام لا،اصلہ ماذکر فی الاصل قال لآخراخبرھا بطلاقھا او بشرھا اواحمل الیھا طلاقھا یقع اخبر ام لا،ولو قال لاٰخر قل لھا انت طالق لاتطلق مالم یقل لانہ توکیل[3]اھ فھو کما تری مطابق لما فی الخانیۃ ومختص بصورۃ الخطاب۔ واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب ١٢منہ۔ |
کہہ دے کہ"وہ طلاق والی ہے"تو طلاق ہوجائے گی وہ شخص بیوی سے کہے یا نہ کہے،اس کا اصل مبسوط میں مذکور ہے کہ خاوند نے دوسرے کو کہا کہ تُومیری بیوی کو طلاق کہہ دے یا اس کو خوشخبری طلاق کی دے یا تو اس کی طلاق اس کو لیجادے،ا ن صورتوں میں خبر دے یا نہ دے ہر طرح طلاق ہوگی اور خاوند نے دوسرے کو یُوں کہا کہ تُومیری کوکہہ کہ تجھے طلاق ہے،تو جب تك وُہ شخص بیوی کو کہہ نہ دے گا طلاق نہ ہوگی،کیونکہ یہ اس شخص کو وکیل بنانا ہوا اھ،تو جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں یہ خانیہ کے مطابق ہے اور خطاب کے صیغہ سے مختص صورت ہے۔واﷲتعالٰی اعلم بالصواب۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع