30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
٦٨میں تجھے طلاق دیتا ہُوں،
|
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) انما یعمل اذا غلب للحال ح،ھو کقولہ قل لھا ھی طالق وصرح فی الخانیہ انھا تطلق بذٰلك فی الحال بخلاف قولہ قل لھا انت طالق فلاتطلق مالم یقل،راجع و حرر وان کانت المسئلۃ(اعنی مسئلۃ العقود)قل لامرأتی تکوی طالقۃ(بزیادۃ الیاء وحذف النون کما ھو لغۃ شائعۃ لاسیمافی العوام حتی تکون الصیغۃ للخطاب)فالجواب صحیح بلاریب وموافق لما فی الخانیۃ فلتراجع البزازیۃ اھ ثم من المولی سبحٰنہ وتعالٰی بالبزازیۃ فاتضح ان الامر کما فھمت وان (تکون)تصحیف من(تکونی)فان عبارۃ البزازیۃ ھکذا قال لھا قولی اناطالق فقالت وقع وان لم یقل لا،بخلاف مالو قال لاٰخر قل لامرأتی |
کا صیغہ طلاق میں تب عمل کرے گا جب اس سے غالب طور پر حال مراد ہو،توا یسی صورت میں اس کا حکم ایسا ہوگا جیسے خاوند دوسرے کو کہے کہ بیوی کو کہہ دو اس کو طلاق ہے،اور خانیہ میں تصریح ہے کہ اس سے اسی وقت طلاق ہوگی،بخلاف جب کہے"بیوی کو تُو کہہ دے کہ تجھے طلاق ہے"تو طلاق نہ ہوگی جب تك وہ نہ کہہ دے اس کی طرف رجوع کرکے دیکھو،اور اگر یہ عقود کا مسئلہ،یوں ہو کہ،دوسرے کو خاوند کہے،کہ،تُومیری بیوی سے کہہ دے"تو طلاق والی ہوجا"(تکون میں نون کا حذف اور یاء کا اضافہ کرکے کہے جیسا کہ یہ عام طور پر خصوصًا عوام میں مشہور ہے،تو یہ بصیغہ امر خطاب ہوگا)تو عقود کا یہ جواب بلاشك وشبہہ درست ہوگا،اور خانیہ کے بیان کے موافق ہوگا،تو بزازیہ کی عبارت پر غور کرواھ،پھر اﷲتعالٰی نے احسان فرماکر بزازیہ کا مسئلہ واضح کردیا کہ معاملہ وہی ہے جو میں نے ذکر کیا اورسمجھا کہ"تکونی"کی تبدیلی میں"تکون"ہوگیا،کیونکہ بزازیہ کی عبارت یُوں ہے خاوند نے یہ کہہ دیا تو طلاق ہوجائے گی ورنہ اگر خاوند نے نہ کہا تو طلاق نہ ہوگی،اس کے برخلاف جب خاوند نے دُوسرے شخص کو کہا کہ تُومیری بیوی سے(باقی برصفحہ آئندہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع