30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی الھندیۃ عن الظہیریۃ رجل من عادتہ ان یقول اذارأی صبیا ای ماردت شش طلاقہ فسکرمن الخمر فاتاہ ابنہ فظنہ صبیا اجنبیًا فقال رواے مادرت شش طلاقہ ولم یعلم انہ ابنہ طلقت امرأتہ ثلثا١ [1]اھ۔ |
ہندیہ میں ظہیریہ سے ہے کہ ایك شخص کی عادت ہے کہ وُہ جب کسی بچّے کو دیکھتا ہے تو کہتا ہے"اے تیری ماں چھ طلاق والی"تو اس کو شراب کا نشہ تھا اس حالت میں اس کا اپنا بیٹاآیا تواس نے نشے میں سمجھا کہ کوئی اجنبی بچّہ ہے تو اس نے اس کو بھی"جا اے تیری ماں چھ طلاق والی"کہہ دیاتو اس کی بیوی کو تین طلاقیں ہوجائیں گی اھ(ت) |
اقول:(اس میں بھی وہی تفصیل چاہئے جو لفظ مطلقہ وغیرہ میں گزری کما لایخفی(جیسا کہ مخفی نہیں۔ت)٤٨تجھ پر پوری یا٤٩آدھی یا٥٠تہائی وغیرہ٥١تجھ پر طلاق کا ہزارواں حصہ،
|
فی الدروجزء الطلقۃ ولو من الف جزء تطلیقۃ لعدم التجزی[2]۔ |
درمیں ہے:طلاق کی جزء خواہ ہزارویں جُز،ایك ہی طلاق ہوگی،کیونکہ طلاق کے اجزاء نہیں ہوسکتے۔(ت) |
٥٢تجھ پر کم درجہ کی طلاق،
|
فی الخانیۃ ولو قال اقل الطلاق یقع واحدۃ۔[3] |
خانیہ میں ہے اگرکہا کم از کم طلاق تو ایك ہی ہوگی۔(ت) |
٥٣تیرے پر نصف،٥٤تیرے چوتھائی پر طلاق،٥٥تیرے ہزارویں ٹکڑے پرطلاق،٥٦تیری روح پر طلاق،٥٧تیری جان پر طلاق،٥٨تیری ناك پر طلاق(اور اگر انف یا بینی پر کہے یا عربی فارسی میں انفك طالق،بربینی تو طلاق(تیری ناك پر طلاق۔ ت)کہے تو کچھ نہیں،برعکس اس کے عربی میں عنقك طالق یا فرجك طالق(تیر ی گردن کو طلاق یا تیری شرمگاہ کو طلاق۔ت)کہے،طلاق ہوجائے گی،اور اُردو میں تیری عنق یا گردن یا فرج پر طلاق کہے تو کچھ نہیں جبکہ لفظ فرج یا اس کا اور مرادف بولے جس سے عرف ہند میں کل عورت مراد نہ لیتے ہوں اگرچہ خاص اردو ہی کا لفظ ہو،وجہ یہ ہے کہ یہاں خاص وُہ لفظ ہونا چاہئے جس سے اُس زبان میں انسان کی ذات کو تعبیر ہوں،عربی میں عنق وفرج ایسے ہی ہیں اور ہماری زبان میں عنق وگردن وخاص لفظ وبینی وغیرہ ایسے نہیں،اور ہمارے یہاں کا یہ عام محاورہ ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع