30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ماقبلھا من کلام منفی اومثبت استفہامًاکان اوخبرا، وموجب بلی ایجاب مابعد النفی استفھامًا کان اوخبرا،الاان المعتبر فی احکام الشرع العرف حتی یقام کل واحد منھما مقام الاٰخر[1]اھ۔ |
استعمال پہلی کلام کی تصدیق کےلئے ہوتا ہے خواہ وُہ مثبت ہو منفی استفہامی ہو یا خبر ہو،اوربلٰی(کیوں نہیں)کا استعمال پہلی کلام میں نفی کا اثبا ت کرنے لئے ہوتاہے خواہ وہ نفی استفہام میں ہویا خبر میں،مگر احکامِ شرع میں بہر حال عرف کا اعتبار ہے،حتی کہ عرف میں ایك دوسرے کی جگہ استعمال مراد لیا جاتا ہے اھ(ت) |
٣٧تجھے طلاق ہے اور مجھے اختیار رجعت نہیں،
|
فی الشامی عن الخیریۃ عن الصیرفیۃ انت طالق ولارجعۃ لی علیك فرجعیۃ[2]۔ |
فتاوی شامی میں خیریہ سے اور انہوں نے صیرفیہ سے نقل کیا کہ اگرخاوند نے کہا"تجھے طلاق اور مجھے رجوع کا حق نہیں ہے"تو ایك رجعی طلاق ہوگی(ت) |
٣٨تجھ پر طلاق ہے نہ پھیرے تجھے کوئی قاضی نہ حاکم نہ عالم،
|
فی الخیریۃ سئل فی رجل قال لزوجتہ انت طالق لا یردك قاضی ولاوال ولاعالم ھل یکون بائنا ام رجعیا اجاب ھو رجعی ولایملك اخراجہ عن موضوعہ الشرعی بذٰلك [3]۔ |
خیریہ میں ہے:سوال کیاگیا کہ ایك شخص نے اپنی بیوی کو کہا"تجھے طلاق ہے تجھے کوئی قاضی،کوئی حاکم یا عالم واپس نہ کرسکے،تو کیا اس صورت میں طلاق رجعی ہوگی یابائن؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ رجعی ہوگی،اور اس کے کہنے سے شرعی ضابطہ ختم نہ ہوگا۔(ت) |
تو٣٩مذہب یہودیا نصارٰی یا چاروں مذہب یا سب٤١مذاہب مسلمین پر مطلقہ،
|
فی الخیریۃ قال فی منح الغفار اقول وقد کثر فی زماننا قول الرجل انت طالق علی الاربعۃ مذاھب یرید بذٰلك ان الطلاق یقع علیھا |
خیریہ میں ہے:منح الغفار میں کہا"میں کہتاہوں کہ ہمارے زمانہ میں خاوند کا قول تجھے چاروں مذہب طلاق"تو اس سے مراد یہ ہے کہ تمام مذاہب پر متفقہ طلاق ہے،تو ایسی صورت میں یقینا طلاق |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع