30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عالم وجاہل١[1]۔ |
کے حکم میں داخل ہے خواہ عالم کہے یاجاہل کہے کوئی فرق نہیں۔(ت) |
١٧تو طلاق ہے،١٨تو طلاق ہوگئی،
|
فی الدروفی انت الطلاق او طلاق،یقع واحدۃ رجعیۃ ان لم ینوشیئا اونوی واحدۃ او ثنتین فان نوی ثلاثا فثلث[2]۔ |
درمیں ہے:اگر کہا"تو طلاق ہے"تو ایك رجعی طلاق ہوگی خواہ کوئی نیت نہ ہویا ایك یادو کی نیت کی ہو،اور اگر تین طلاق کی نیت سے یہ لفظ کہا تو تین طلاقیں ہوں گی۔(ت) |
١٩طلاق لے،
|
فی ردالمحتار خذی طلاقك فقالت اخذت فقد صحح الوقوع بہ بلااشتراط نیۃ کما فی الفتح وکذایشترط قولھا اخذت کما فی البحر[3]۔ |
ردالمحتار میں ہے:اگرکہا"اپنی طلاق لے"جواب میں بیوی نے کہا"میں نے لی"تو نیت کے بغیر بھی طلاق ہوگی،صحیح یہی ہے،جیسا کہ فتح میں ہے،اور اس میں عورت کا جواب میں"میں نے لی"کہنا بھی شرط نہیں ہے،جیساکہ بحر میں ہے(ت) |
وُہ باہر جاتی تھی کہ کہا٢٠طلاق لئے جا،
|
فی الخانیۃ واذاجرت الخصومۃ بینھا وبین زوجھا فقامت لتخرج فقال(الزوج سہ طلاق باخویشتن طلاق ببر)فقال الشیخ الامام ابوبکر محمد بن الفضل رحمہ اﷲتعالٰی ان نوی الایقاء یقع فان لم تکن لہ نیۃ فکذٰلك لانہ ایقاء ظاھرا[4]۔ |
خانیہ میں ہے:اگر خاوند بیوی میں جھگڑا ہُوا اور بیوی اٹھ کر باہر جانے لگی تو خاوند نے کہا"اپنے ہمراہ تین طلاقیں لے جا"اس پر شیخ امام ابوبکر محمد بن فضل رحمہ اﷲتعالٰی نے فرمایا:اگرخاوند نے طلاق واقع کرنے کی نیّت سے کہا تو طلاق ہوجائے گی اور نیت نہ ہو تو بھی طلاق ہوجائیگی کیونکہ اس کلام کاظاہر طلاق ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع