30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الابالنیۃ لعدم العرف فی زماننا۔ |
ساتھ علیک(تجھ پر)کہنا ضروری ہے اھ قلت(میں کہتا ہوں) اس لفظ میں ہمارے زمانے میں بھی یہی حکم ہے کہ بغیر نیت طلاق ہوجائے گی،لیکن"اﷲکا حلال یامسلمانوں کا حلال اور ہر حلال مجھ پر حرام ہے"اس کے برخلاف ہے،ان تین الفاظ سے بغیر نیت طلاق نہ ہوگی کیونکہ ہمارے زمانے میں یہ طلاق کےلئے معروف نہیں ہیں۔(ت) |
(٣٥)ہزار طلاق کے برابرایك طلاق،
|
شامی عن البحر وفی واحدۃ کالف واحدۃ اتفاقا وان نوی الثلٰث[1]۔ |
شامی نے بحر سے نقل کیا"ہزار طلاق کے برابر ایك طلاق"میں اتفاق ہے کہ ایك ہی ہوگی اگرچہ وُہ تین کی نیت کرے۔(ت) |
ان سب صورتوں میں بے حاجت نیت طلاق بائن کاحکم دیا جائے گا۔
رجعی کے بعض الفاظ یہ ہیں:
١میں نے تجھے طلاق دی،٢ اے مطلّقہ بتشدید لام،٣اے طلاق گرفتہ،٤اے طلاق دی گئی،٥اے طلاقن،٦اے طلاق شدہ،٧اے طلاق یافتہ،٨اے طلاق کردہ،
|
فی الدروانت طالق ومطلّقۃ بالتشدید [2]۔ |
دُرمیں ہے"تو طلاق والی ہے یا طلاق دی ہُوئی"بالتشدید۔ (ت) |
٩اے طلاق دادہ،
|
فی الخزانۃ ولو قال لھا ای طلاق دادہ یقع واحدۃ٣[3]۔ |
خزانہ میں ہے کہ اگر کہا"اے طلاق دی ہوئی"تو ایك طلاق واقع ہوگی(ت) |
مگر اس عورت نے اگر اپنے پہلے شوہر سے طلاق پائی تھی بایں معنی اس نے یہ آٹھ الفاظ کہے تو طلاق نہ ہوگی،
|
فی الخانیۃ رجل قال لامرأتہ یا مطلقۃ وکان لھا زوج قبلہ وقد کان طلقھا ذلک |
خانیہ میں ہے:اگر خاوند نے بیوی کو کہا"اے طلاق دی ہُوئی"جبکہ اس بیوی کوپہلے کسی خاوند نے طلاق |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع