30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لارجعۃ لی فیھا علیک،الاول کلام مستقل لایغیر ماقبلہ فلایتغیرعن حکمہ الشرعی والثانی مغیر ویختلف النظرفیہ فمن نظر الی انہ تغیر لحکم الشرع،الغاہ و اوقع الرجعی لان شرط الرجعی احق واوثق ومن شرط مالیس فی کتاب اﷲ فشرطہ باطل وان شرط مائۃ شرط١[1]کماارشد الیہ الحدیث الصحیح ومن ارجعہ الی معنی الوصف اوقع بہ البائن فلم یجعلہ تغیرابل تعبیراکانہ یقول ان مرادی طلاق لارجعۃ لی فیہ وانت تعلم ان الاول اظہر لکن ربما یؤید ھذالان الاعمال اولی من الاھمال واماالثالث فلاشبہۃ فیہ عندنا لما مرانہ اذا وصف الطلاق بضرب من الشدۃ والزیادۃ کان بائنا،اماما ذکرت انہ ینبغی وقوع الرجعی بلاخلاف فیما اذاقال انت طالق طلقۃ لااراجعك بعدھا فالوجہ فیہ ان الطلاق الرجعی لایستلزم الرجعۃ فلاینافی عدمھا انما ینافی عدم اختیارھا،فحل محل ابعاد وبھذا القدر لایسلب منہ خیار الرجعۃ فمن جہتہ احتمال ھذاالمعنی لم یکن نصا فی ارادۃ |
رجوع کا حق نہیں"۔تیسری،جیسے کہے"تجھے وہ طلاق جس میں مجھے تجھ پر رجوع کا حق نہیں"پہلی صورت میں عطف کی وجہ سے مستقل کلام ہے ماقبل کو تبدیل نہیں کرےگا اور ماقبل اپنے شرعی حکم سے متغیر نہ ہوگا،اور دوسری صورت میں شرط کی وجہ سے ماقبل متغیر کرے گا،اور اس میں وجہ مختلف ہے،جس نے یہ وجہ بنائی کہ ماقبل کےلئے مغیّر ہے اور شرعی حکم متغیر کررہا ہے،تو اس شرط کو لغو قرار دیااور ماقبل کو رجعی قرار دیا،کیونکہ اس کو رجعی کی شرط بنانا زیادہ وزنی ہے اور یہ کہا کہ اﷲ کے حکم کے خلاف شرط باطل ہے،اگرچہ ایسی سَوشرطیں بھی ہوں تو وُہ باطل ہوں گی جیساکہ حدیثِ صحیح میں ارشاد ہے۔اور تیسری صورت وصف تو جس نے یہاں وصف قرار دیا انہوں نے کہا اس وصف کی وجہ سے طلاق بائنہ ہوگی،لہذا ان کے نزدیك یہ وصف پہلے بیان کی تبدیلی نہیں بلکہ یہ اس کی تعبیرہے گویا اس نے کہا"طلاق سے میری مراد ایسی طلاق جس میں مجھے رجوع کا حق نہ ہو"۔آپ جانتے ہیں کہ پہلی صورت واضح ہے،اور دوسری صورت میں شرط کو مؤثر ماننے کو ترجیح ہوگی کیونکہ کسی کلام کو عمل میں لانا اسے مہمل قراردینے سے بہتر ہے،اور تیسری صورت میں کوئی شُبہہ نہیں ہے کیونکہ جب طلاق کوکسی شدید اور زیادتی والے وصف سے موصوف کیا جائے تو وُہ طلاق بائنہ ہوجاتی ہے،لیکن خاوند کے اس قول میں"تجھے طلاق وُہ کہ میں تجھ سے رجوع نہ کروں گا"کے متعلق جو میں نے ذکر کیا ہے کہ اس میں بالاتفاق رجعی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع