30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
٢٥تجھ پروہ طلاق جس میں مجھے رجعت کااختیارنہیں،اس میں بالاتفاق ہمارے ائمہ کے مذہب میں طلاق بائن ہوگی۔اوراگر یہ کہا"تجھ پر طلاق ہے اس شرط پر کہ مجھے رجعت کااختیار نہیں،جوہرہ میں فرمایا کہ اس میں رجعی ہوگی،اور بائن ہونے کو ضعیف بتایا مگر تبیین الحقائق اور غایۃ البیان اور فتح القدیر میں فرمایا کہ اوّل تو ہمیں رجعی ہونا مسلّم نہیں اور ہو بھی تو اس کی وجہ یہ ہے یہ ایك بحث ہے جس سے اصلًا مذہب ہمارے ائمہ کا اس صورت میں وقوع بائن ہونا ثابت نہیں ہوتا اگرچہ بحرالرائق میں اسی بحث کی بناء پر جزم فرمایاکہ یہاں وقوع بائن ہمارا مذہب ہے،
|
فی البحر عن الجوھرۃ ان قال انت طالق علی انہ لارجعۃ لی علیك یلغوویملك الرجعۃ وقیل تقع واحدۃ بائنۃ وان نوی الثلث فثلاث اھ وظاھر مافی الھدایۃ ان المذھب الثانی فانہ قال واذا وصف الطلاق بضرب من الشدۃ والزیادۃ کان بائنا[1]اھ |
بحر میں جوہرہ سے منقول ہے:اگر خاوند نے کہا تجھے طلاق اس شرط پر جس میں مجھے رجعت کا اختیار نہیں،تویہ رجعی ہوگی،اور بعض نے کہا ایك بائنہ واقع ہوگی،اور اگر تین کی نیت کی تو تین ہوں گی۔اور ہدایہ کے بیان سے ظاہر یہ ہے کہ دوسرا قول مختارِمذہب ہے کیونکہ اس نے کہا کہ اگر طلاق کو کسی شدّت اور زیادتی کے ساتھ موصوف کیا جائے تو وُہ بائنہ ہوگی اھ(ت) |
اس کے سوا تیسری صورت ایك اور ہے وُہ یہ کہ تجھے طلاق ہے اور مجھے رجعت کا اختیار نہیں،اس میں بلاشبہ رجعی ہوگی کما فی الشامی ویاتی(جیسا کہ شامی میں ہے اور آگے آئے گا۔ت)یُونہی اگر کہا تجھ پر طلاق ہے اس شرط پر کہ اس کے بعد رجعت نہیں بلکہ یُوں کہا تجھ پر وُہ طلاق ہے جس کے بعد رجعت نہیں بلکہ یُوں کہا کہ تجھ پر وُہ طلاق ہے جس کے بعد رجعت نہ ہوگی،تو ان سب صورتوں میں بلاخلاف رجعی ہونا چاہئے،
|
والسر فیہ ان الصور ھھنا ثلث العطف والشرط و الوصف کقولہ انت طالق ولارجعۃ لی علیك اوانت طالق علی ان لارجعۃ لی علیك اوانت طالق طلقۃ
|
اس میں رازیہ ہے کہ یہاں تین صورتیں ہیں،ایك عطف،دوسری شرط،تیسری وصف،پہلی،جیسے کہے"تجھے طلاق اور مجھے رجوع کاحق تجھ پر نہیں۔"دوسری،جیسے کہے"تجھے طلاق اس شرط پر کہ مجھے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع