30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی الدرویقع بقولہ انت طالق بائن اوافحش الطلاق اوطلاق الشیطان والبدعۃ او اشر الطلاق اوکالجبل اوکالف اوملئ البیت او تطلیقۃ شدیدۃ او طویلۃ او عریضۃ اواسوأہ او اشدہ او اخبثہ او اکبرہ اواعرضہ او اطولہ او اغلظہ او اعظمہ واحدۃ بائنۃ ان لم ینو ثلاثا،فیہ ایضا ولو بالفاء(ای فی قولہ انت طالق فبائن)فبائنۃ ذخیرۃ[1]۔(ملخصًا) |
دُرمیں ہے: خاوند نے بیوی کو کہا تجھے بائن طلاق،فحش تر طلاق،شیطانی طلاق،بدترطلاق،بدعت طلاق،یا پہاڑ برابر،یا ہزار برابر،کوٹھری بھر طلاق،شدید طلاق،طویل، عریض، سب سے بری،سب سے شدید،سب بڑی،سب سے عریض سب سے طویل،سب سے غلیظ،سب سے عظیم طلاق۔تو ان تمام صورتوں میں ایك بائنہ طلاق ہوگی جبکہ یہاں بھی تین کی نیت نہ کی ہو۔اور اگر بائن کو ف کے ساتھ ذکر کرے مثلًا تُو طلاق والی"فبائنہ"کہا تو بائنہ ہوگی۔ذخیرہ۔(ت) |
٢٣تجھ پرایسی طلاق جس سے تُو اپنے اختیار میں ہوجائے،
|
فی الدرکما یقع البائن لوقالت انت طالق طلقۃ تملکی بھا نفسك لانھا لاتملك نفسھا الابالبائن٢[2]۔ |
دُر میں ہے:اگر کہا"تجھ پر ایسی طلاق جس سے تُو اپنے اختیار میں ہوجائے"تو بائنہ طلاق واقع ہوگی کیونکہ بیوی بائنہ طلاق کے بغیر اپنی مالك نہیں ہوسکتی(ت) |
٢٤تجھ پر بائن طلاق،
|
فی ردالمحتار تحت قولہ لانہ لا تملك نفسھا صرح بہ فی البدائع وقال اذاوصف الطلاق بصفۃ تدل علی البینونۃ کان بائنًااھ وھذہ الصفۃ بمعنی قولہ انت طالق طلقۃ بائنۃ[3]الخ۔ |
ردالمحتار میں ماتن کے قول کہ"اپنے نفس کی مالك نہ ہوگی"کے تحت ہے اس کی تصریح بدائع میں کی ہے،اور کہاکہ جب طلاق ایسے وصف سے موصوف ہوجو بائنہ ہونے پر دلالت کرے تو وُہ طلاق بائنہ ہوگی اھ،اور یہ صفت"تو بائنہ طلاق والی ہے"کے معنی میں ہوگی الخ(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع