30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ومثلھا(اور اسی کی مثال ہے۔ت)١٠٣الگ ہو،١٠٤میں نے تیراپاؤں کھول دیا
|
لعدم التعارف فی بلادنا ومافی الخلاصۃ پای کشادہ کردم ترا تفسیر قولہ طلقتك عرفا حتی یکون رجعیا وتقع بدون النیۃ [1]اھ فمبنی کما تری علی العرف فی الھندیۃ عن الذخیرۃ عن الامام ظہیر الدین یفتی فیما سواھا باشتراط النیۃ ویکون الواقع بائنا[2]۔ |
ہمارے علاقہ کا عرف نہ ہونے کی بناپر،اور جو خلاصہ میں ہے کہ"میں نے تیرے پاؤں کھول دئے،عرف میں"میں نے تجھے طلاق دی"کے ہم معنٰی ہے،لہذااس سے طلاق رجعی ہوگی،اور بغیر نیت طلاق ہوجائے گی اھ تو یہ عرف پر مبنی ہے جیسا کہ تودیکھ رہاہے،ہندیہ میں ذخیرہ سے امام ظہیرالدین سے منقول ہے کہ مذکورہ الفاظ کے علاوہ میں نیت شرط ہونے پر فتوٰی دیا جائے گا اور اس سے بائنہ طلاق ہوگی۔(ت) |
١٠٥میں نے تجھے آزاد کیا،١٠٦آزاد ہوجا،
|
فیہا ولوقال اعتقتك طلقت بالنیۃ کذا فی معراج الدرایۃ وکونی حرۃ اواعتقی مثل انت حرۃ کذافی بحرالرائق[3]۔ |
ہندیہ میں ہے: اور اگر خاوند کہے"میں نے تجھے آزاد کیا"تو نیّت سے طلاق ہوگی،جیسا کہ معراج الدرایہ میں ہے،اور"تُوآزاد ہوجا"یا"توآزاد ہے"انت حرۃکی طرح ہے،جیسا کہ بحرالرائق میں ہے۔(ت) |
١٠٧تیری بند کٹی،١٠٨تُوبے قید ہے،
|
فیھا ولوقال انت السراح فھو کما قال لھا انت خلیۃ کذافی فتاوٰی قاضی خان[4]۔ |
ہندیہ میں ہے:اگر کہا"تُوبے قید ہے"یہ ایسے ہی ہے جیسے یُوں کہے"تُوجدا ہے"جیسا کہ فتاوٰی قاضی خان میں ہے۔ (ت) |
١٠٩میں تجھ سے بری ہُوں،
|
فیھا فی مجموع النوازل امرأۃ قالت لزوجھا انا بریئۃ منك فقال الزوج |
ہندیہ میں ہے کہ مجموع النوازل میں ہے،بیوی نے کہا"میں تجھ سے بَری ہوں"تو خاوند نے جواب میں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع