30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
٨٩مجھ میں تجھ میں نکاح نہیں،٩٠مجھ میں تجھ میں نکاح باقی نہ رہا،
|
فی الھندیۃ ولوقال لھا لانکاح بینی وبینك اوقال لم یبق بینی وبینك نکاح یقع الطلاق اذانوی کذافی فتاوٰی قاضی خاں[1]۔ |
ہندیہ میں ہے اگر کہا،تجھ میں مجھ میں نکاح نہیں،یا کہا،مجھ میں اور تجھ میں نکاح باقی نہیں ہے،تو نیتِ طلاق سے طلاق ہوگی،جیسا کہ فتاوٰی قاضیخاں میں ہے۔(ت) |
٩١میں نے تجھے تیرے گھر والوں یا٩٢باپ یا٩٣ماں یا٩٤خاوندوں کو دیایا٩٥خود تجھ کو دے ڈالا(اور تیرے بھائی یا ماموں یا چچا یا کسی اجنبی کو کہا تو کُچھ نہیں)
|
فی الھندیۃ روی الحسن عن ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالٰی انہ اذا قال وھبتك لاخیك اولخالك اولعمك اولفلان الاجنبی لم یکن طلاق کذافی السراج الوھاج ولوقال لھا وھبت نفسك منك فھو من جملۃ الکنایات ان نوی بہ الطلاق یقع والافلا[2]۔ |
ہندیہ میں ہے: امام حسن رحمہ اﷲتعالٰی نے امام اعظم رحمہ اﷲتعالٰی سے روایت کیا کہ اگریُوں کہا،میں نے تجھے تیرے بھائی،خالو،چچے یا فلاں اجنبی کو ہبہ کیا طلاق نہ ہوگی جیسا کہ سراج وہاج میں ہے۔اور اگر یُوں کہا،میں نے تیرا نفس تجھے ہبہ کیا تو کنایہ کے الفاظ میں سے ہے اگرنیّت کی تو طلاق ہوجائے گی،ورنہ نہیں۔(ت) |
۹۶مجھ میں تجھ میں کچھ معاملہ نہ رہا یا تجھ میں مجھ میں کچھ شئی نہیں اگرچہ نیت کرے،
|
فی الھندیۃ ولوقال لم یبق بینی وبینك شئی ونوی بہ الطلاق لایقع وفی الفتاوی لم یبق بینی وبینك عمل ونوی یقع کذافی العتابیۃ[3]۔ |
ہندیہ میں ہے اگر کہا،تیرے اور میرے درمیان کوئی شئی باقی نہیں،اور اس سے نیت طلاق کی ہو تو طلاق نہ ہوگی،اور فتاوٰی میں مذکور ہے اگر یُوں کہا،تیرے اور میرے درمیان کوئی معاملہ باقی نہیں رہا،نیت کی ہوتو طلاق ہوگی،جیسا کہ عتابیہ میں مذکور ہے۔(ت) |
٩٧میں تیرے نکاح سے بری ہُوں،٩٨بیزار ہوں،
|
فیھا عن الخانیۃ ولوقال انابریئ من |
ہندیہ میں ہے خانیہ سے منقول ہے،اگر کہا میں تیرے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع