30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
٥٥تو مثل میری ماں یا٥٦بہن یا٥٧بیٹی کے ہے اور یُوں کہا کہ تُوماں بہن بیٹی ہے توگناہ کے سوا کچھ نہیں،
|
فی الدروان نوی بانت علی مثل امی اوکامی وکذالو حذف علی،خانیہ برااوظہارااو طلاقا،صحت نیتہ ووقع مانواہ لانہ کنایۃ والاینوشیئا او حذف الکاف لغاوتعین الادنی اے البریعنی الکرامۃ ویکرہ قولہ انت امی ویا بنتی ویااختی ونحوہ[1]۔ |
دُر میں ہے اگر بیوی کوکہا"تُومجھ پر میری ماں کی طرح"لفظ مثل یا کاف کو تشبیہ کے لیے ذکر کیا،اور یوں ہی اگر لفظ علَیَّ(مجھ پر)کو حذف کردیا ہواور خدمت یا ظہار یا طلاق جو بھی نیت کرے گا وہی حکم ہوگا،ہر ایك کی نیت صحیح ہوگی کیونکہ یہ لفظ کنایہ ہے،اور کچھ بھی نیت نہ تھی یا تشبیہ کے لفظ کو حذف کردیا ہوتو یہ لغو کلام ہوگا،اور صرف ادنٰی معنی یعنی خدمت وکرامت مراد ہوگا،اور"تُومیری ماں ہے اور اے میری بیٹی اے میری بہن"جیسے الفاظ مکروہ ہیں۔(ت) |
٥٩تیری گلوخلاصی ہُوئی،٦٠تو خالص ہوئی فی ردالمحتار انت خالصۃ[2] (ردالمحتار میں ہے: تُوخالص ہوئی۔ت)٦١حلالِ خدا،یا٦۲حلالِ مسلمانان٦٣یا ہر حلال مجھ پر حرام،٦٤تومیرے ساتھ حرام میں ہے،
|
الکل فی الشامی کما یأتی صریحا وخالف فیھا المتاخرون ائمتنا المتقدمین فقالوالاحاجۃ الی النیۃ لانہ المتعارف قلت وفی بلادنا قدانعدم التعارف فاٰل الامرالی ماکان علیہ قال الشامی ان المتاخرین خالفوا العرف الحادث فیتوقف الاٰن وقوع البائن بہ علی وجود العرف۔ |
یہ تمام فتاوٰی شامی میں ہے جیسا کہ آئندہ صراحتًا آئے گا،ان میں متاخرین فقہاء نے ہمارے متقدمین ائمہ کی مخالفت کی ہے اور کہا ان الفاظ میں نیت کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ طلاق میں عُرف بن چکے ہیں،قلت(میں کہتا ہوں)ہمارے علاقہ میں یہ عُرف نہیں ہے تو یہ الفاظ اپنے اصل پر لوٹ آئیں گے،علامہ شامی نے فرمایا: متاخرین نے جدید عُرف کی بناپر خلاف کیا تو اس کے ساتھ وقوع بائن وجود عرف پر موقوف ہوگا۔(ت) |
٦٥میں نے تجھے تیرے ہاتھ بیچا اگر کسی عوض کا ذکر نہ کرے،
|
فی ردالمحتار عن الخانیۃ ولو قال بعت نفسك منك فقالت اشتریت یقع |
ردالمحتار میں خانیہ سے منقول ہے کہ اگر خاوند نے بیوی کوکہا کہ"میں نے تجھے تیرے پاس فروخت کیا"تو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع