30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے کسی کامذہب نہیں،اسی طرح شوہر کا بقصد قتل زوجہ پر حربہ کرنا اور اپنے گمان میں اس کاکام تمام کردینا کسی کے نزدیك موجب افتراق نہیں،کوئی جاہل ساجاہل بھی ایسی بات نہیں کہہ سکتا۔واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ٢٦٧: کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کی زوجہ منکوحہ جس کی عمرتخمینًا صہ صہ سال کی تھی فوت ہوگئی وُہ بوجہ ناقابل ہونے زوجیت کے مباشرت شوہری سے مجبور ہے اندامِ نہانی قابلِ ادخال نہ تھا قدرۃً اس میں قابلیت مباشرت نہ تھی زن وشوہر میں کبھی مجامعت نہ ہُوئی نہ کوئی اولاد پیدا ہوئی بس اس زوجہ کے شوہرپر کیا کیا حقوق عائدہوسکتے ہیں اور شوہر متروکہ منقولہ وغیرمنقولہ زوجہ میں حقوق شرعی رکھتا ہے یادونوں ایك دوسرے کی مالیت میں کچھ حق نہیں رکھتے یا فلاں اس قدر کہتا ہے اور فلاں اس قدر یا فلاں بالکل حق نہیں رکھتا اور فلاں رکھتا ہے۔بینواتوجروا
الجواب:
صورت مسئولہ میں زن و شوہر کے باہمی حقوق ویسے ہی ہوتے ہیں جیسے زنِ قابلِ جماع کے ساتھ صرف فرق اتنا ہے کہ اگر فرج داخل میں بقدرِحشفہ ادخال ناممکن تھا اور ایسی حالت میں شوہر طلاق دیتا تو نصف مہر لازم آتا اگرچہ خلوت کرچکا ہوتا کہ وُہ خلوت بوجہ مانع،خلوت صحیح نہ تھی اور عدّت جب بھی لازم آتی اور عورت کا نفقہ بھی شوہر پر لازم آتا اب کہ عورت کا انتقال ہوگیا اس کاکل مہر ذمہ شوہر واجب الادا ہوگیا اور عورت کا نصف ترکہ شوہر کو وراثۃً پہنچے گا کہ ایسی عورت کے ساتھ نکاح شرعًا صحیح بلکہ لازم ہوتا ہے کہ شوہر دعوٰی فسخ نہیں کرسکتا،درمختار میں ہے:
|
لایتخیر احدالزوجین بعیب الاٰخرولو فاحشا کجنون وجذام ورتق وقرن۔[1] |
فحش عیب ہوتو بھی خاوند بیوی میں سے کسی کو دوسرے میں عیب کی بناء پر فسخِ نکاح کا اختیار نہیں،مثلًا جنون،جذام،بیوی کی شرمگاہ میں تنگی یا ہڈی ہو۔(ت) |
اُسی میں ہے:
|
الخلوۃ بلامانع کرتق وقرن وعقل کالوطء فی تاکد المھر وتجب العدۃ فی الکل ولو فاسدۃو |
خلوت جس میں مانع جماع نہ پایا جائے مثلًا عورت کی شرمگاہ میں تنگی یا ہڈی وغیرہ ہوتو ایسی خلوت وطی کے حکم میں ہوگی جس سے مہر لازم ہوجائے گا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع