30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مواقع الضرورۃ قال اﷲتعالٰی وَمَا جَعَلَ عَلَیۡکُمْ فِی الدِّیۡنِ مِنْ حَرَجٍ ؕ [1]فماظنك بالعمل بقول صاحبی الامام المثبت فی ظاہرالروایۃ المذیل بترجیح مافقد صرحوا انہ لیس فی المذہب قول لاحد غیر الامام الھمام رضی اﷲتعالٰی عنہ، وامّاماینسب الی الصاحبین او الی احدھما فما ھو الاروایۃ عنہ مال الیھا بعض الاصحاب،فنسبت الیہ کما اقسم علیہ الاصحاب بایمان غلاظ شداد کما ذکرہ فی ردالمحتار و غیرہا من الاسفار واﷲیحب التیسر ولایرضی بالظلم ولاضرر ولاضرار فی الاسلام [2]والیہ المشتکی من احوال الزمان، واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
کے علاوہ کی تقلید بوقتِ ضرورت جائز ہے،اور اﷲتعالٰی نے فرمایا:"اﷲتعالٰی نے تمہارےلئے دین میں تنگی نہیں فرمائی۔ "توامام صاحب رحمہ اﷲتعالٰی کے دونوں شاگردوں (صاحبین) کے قول پر عمل کے بارے میں تجھے کیا تردّد ہوسکتا جبکہ وُہ قول ظاہر الروایۃ کے ضمن میں ایك طرح کی ترجیح بھی دامن میں لئے ہوئے ہے،فقہاء میں ایك طرح کی ترجیح بھی دامن میں لئے ہوئے ہے،فقہاء نے تصریح فرمائی ہے کہ مذہب میں امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے قول کے ماسواکوئی قول نہیں اور جوصاحبین یا ان میں کسی ایك کی طرف منسوب ہے تو وُہ بھی امام اعظم رضی اﷲتعالٰی عنہ کا ہی قول ہے جوان سے مروی ہوتا ہے اور بعض شاگرد اس قول کو اپنالیتے ہیں جیسا کہ اس کو آپ کے شاگردوں نے شدید قسموں کے ذریعے ذکر فرمایا ہے کہ جیسا کہ اس کو ردالمحتار وغیرہ کتب میں بیان کیاہے،اور اﷲ تعالٰی آسانی پیدا کرنے کو پسند فرماتا ہے اور ظلم اور ضرر کو اسلام میں پسند نہیں فرماتا،اور اس کے دربار میں ہی زمانہ کے احوال کی شکایت ہے، واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ٢٦٠: ١١جمادی الآخرہ ١٣١٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نامرد ہے اُس نے اپنی زوجہ کو طلاق دے دی اب وہ مقدمہ جُھوٹا بنا کرکچہری چڑھتا ہے کہ ہم نے طلاق نہیں دی ہے کچہری سے حکم ہوا ڈاکٹر معاینہ کرے اس کا ملاحظہ بھی ہُوا وہ نامرد ہے دوچار شخصوں نے اس کوچڑھا کر نالش کردی ہے،اس مسئلہ میں کیا حکم ہے؟
الجواب:
جب طلاق دے دی اور عدّت گزر گئی طلاق بائن تھی تو عورت نکاح سے نکل گئی اور وُہ جُھوٹی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع