30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرے سال بھر کی مہلت دے د اور بحالتِ انکار زنانِ ثقات کو دکھا کر بقائے بکارت کا ثبوت لے کر زید کو مہلت ایك سال کی اطلاع کودے جب بعد مرورمدّت عورت پھر جُدائی چاہے عالم دوبارہ زید کے پاس جائے،بن پڑے توکاروائی مذکور کرے مگر جب زید کوخواہی نخواہی ایذاوضررِ مریم ہی منظور ہے تو بعد سماع مہلت عجب نہیں کہ دوبارہ عالم سے نہ ملے کہ آخر جبر شرعی کی طرف تو کوئی راہ ہی نہیں،اگر ایسی صورت واقع ہوتو مریم اس بار دوم کی کاروائی میں اپنے آپ کو اعانت عالم سے غنی سمجھے اور صرف اُس قدر امداد پر جو اوّل بار بحکم عالم نامردیِ زید ثابت ہوکر مہلت یکساں دی گئی تھی قناعت کرے اب کہ زید عالم سے نہ ملے اور کاروائی آئندہ نہ ہونے دے ہندہ خود کہہ دے کہ میں نے اپنے نفس کو اختیار کیا اور زیدکے نکاح سے باہر آئی مذہبِ صاحبین پراس قدربھی کافی ہوجائے گا اور مریم اس کے ظلم سے نجات پائے گی،
|
فی ردالمحتار تحت قولہ والابانت بالتفریق من القاضی وقیل یکفی اختیارھا نفسھا ولایحتاج الی القضاء کخیار العتق قیل وھو الاصح کذا فی غایۃ البیان وجعل فی المجمع الاوّل قول الامام والثانی قولھما نھر،وفی البدائع عن شرح مختصر الطحاوی ان الثانی ظاہرالروایۃ ثم قال وزکر فی بعض المواضع ان ماذکر فی ظاہرالروایۃ قولھما [1]انتہی۔
اقول: وقد نص علمائنا ان تقلید الغیریجوز فی |
ردالمحتار میں ماتن کے قول(ورنہ قاضی کی تفریق سے بائنہ ہوجائے گا)کے تحت بیان کیا کہ بعض نے کہا قاضی کی تفریق کے بجائے بیوی خود اپنے کو علیحدہ قرار دے تو کافی ہے اور قاضی کی ضرورت نہیں،جیسا کہ عتق میں خیار کی صورت میں عورت کو خودکاروائی کا اختیار ہے،بعض نے اس قول کو اصح قرار دیا،جیساکہ غایۃ البیان میں ہے۔اور مجمع میں پہلے قول(قاضی کی تفریق)کو امام صاحب رضی اﷲتعالٰی عنہ کا قول اوردوسرے کو صاحبین کا قول قرار دیاہے،نہر۔اور بدائع میں مختصر الطحاوی کی شرح سے منقول ہے کہ دُوسراقول ظاہر روایۃ ہے،اور پھر کہا کہ بعض مواقع میں ظاہر روایۃ صاحبین کا قول ہے،اھ۔(ت) اقول:(میں کہتا ہوں)ہمارے علماء نے نص فرمائی ہے کہ اپنے امام اعظم رضی اﷲتعالٰی عنہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع