30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مطالبہ پر یہ تفریق جائز ہے،واﷲاعلم اھ__العلامۃ امین الدین ابن عابدین امابالتامل مع ان ما استظہر بہ لایفیدہ کما اوضحنا فیما علقناہ علیہ فتبصر۔ |
قلت(میں کہتا ہوں)ی فقہی نص ہے جو علامہ ابن عابدین کی رائے پر مقدم ہے لیکن بغور معلوم ہورہا ہے کہ ان کی رائے ان کو خود مفید نہیں ہے جیسا کہ ہم نے وہاں حاشیہ میں واضح کیا ہے،تو غور چاہئے۔(ت) |
ہندہ اگر اس کے حضور دعوی کرے حکم زید سے جواب لے اگر اپنی نامردی اور مریم پر قدرت نہ پانے کا مقر ہو اسے آج سے سال بھر کامل کی مہلت دے اور منکر ہوتو عورت ثقہ نمازی پرہیز گار مریم کو دیکھے جب وُہ شہادت دے کہ واقعی مریم ہنوز بکر ہے تو زید کو سال بھر کی مہلت دی جائے اگر وُہ دن ختم ماہ قمری ہوتو سال کے بارہ١٢ مہینے تیرہ ١٣ ہلالوں سےلئے جائیں ورنہ تین سوساٹھ٣٦٠دن شمار کرلیں اور اس مدّت میں جتنے دنوں مریم باختیارِ خود زید کے مسکن میں نہ رہے یا اُسے خواہ زید کو ایسا مرض ہو جس میں مجامعت نہ ہوسکے وُہ دن شمار میں نہ آئیں گے اور اگر زید ہی اُسے نہ رکھے یا اُس کے پاس نہ آئے تو کُچھ مجرانہ پائے گا یُونہی ایامِ حیض بھی مجرا نہ ہونگے،جب اس طرح سال گزرجائے اور زید مریم پر قدرت نہ پائے مریم پھر حَکم کے پاس تفریق وازالہ نکاح کا دعوٰی کر حَکم پھر زید سے وجاب لے اگر معترف ہو یا بحالت انکار پھر کسی عورت معتمدہ نمازی متقیہ کی شہادت معانیہ سے ثابت ہو کہ اب بھی مریم بدستور بکر ہے تو حکم مریم سے پوچھے تو زید کو اختیار کرتی ہے یا اپنے نفس کو اگر کہے زید کو یا بغیر کُچھ کہے چلی جائے یا کھڑی ہوجائے یا اٹھادی جائے یا حَکم اٹھ کھڑا ہوتو اب اس کا دعوٰی باطل اور نکاح لازم ہوگیااور اگر اسی جلسہ میں کہہ دے میں اپنے نفس کو اختیار کیا تو حَکم زید کو حُکم دے کہ اُسے طلاق دے کہ بحکم شرع تجھ پر طلاق دینی واجب ہے اگر دیدے فبہا ورنہ حَکم کہہ دے میں تم دونوں میں تفریق کردی فورًامریم اس کے نکاح سے نکل جائے گی جس سے چاہے نکاح کرلے،پس اگر زید ومریم میں خلوت ہوچکی تو مریم پر عدّت اور زید کے ذمّہ پُورا مہر ورنہ عدّت نہیں اور آدھا مہر،
|
فی تنویرالابصار والدرالمختار وردالمحتار لووجدتہ عنینا اجل سنۃ قمریۃ بالااھلۃ علی المذہب ولواجل فی اثناء الشھر فبالایام اجماعا(کل شھر ثلثون یوما) ورمضان وایّام |
تنویر الابصار،درمختار اور ردالمحتار میں ہے کہ اگر بیوی اپنے خاوند کو نامرد پائے تو خاوند کو ایك سال کی قمری مہینوں کے حساب سے مہلت دی جائے گی،جیسا کہ مذہب میں ہے،اور اگر مہینہ کے درمیان مہلت دی گئی تو پھر بالاجماع دنوں کی گنتی بحساب ہرماہ تیس دن مہلت شمار ہوگی،اور ماہِ رمضان اور |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع