30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
نکاحِ مذکورجائز وصحیح ہے،عورت کو ہرگز روا نہیں کہ بے طلاق یا فُرقتِ شرعیہ کے دُوسرے سے نکاح کرلے،اگر کرے محض حرام ہوگا۔مردجب ہمبستری میں عورت کا حق ادا کرنے پر قادر نہ ہوتو اس پر فرض ہے کہ عورت کوطلاق دے دے۔
|
قال اﷲتعالٰی فَاَمْسِکُوۡہُنَّ بِمَعْرُوۡفٍ اَوْ سَرِّحُوۡہُنَّ بِمَعْرُوۡفٍ۪١[1]۔ |
اﷲتعالٰی نے فرمایا: ایك یا دو٢ طلاقوں کے بعد بیوی پاس رکھ لویا بھلائی کے ساتھ آزاد کردو۔(ت) |
بعد طلاق عورت عدّت بیٹھے اگر مرد خلوت کرچکا ہواگرچہ اس پر قادر نہ ہُواہو۔اُ س کے بعد جس سے چاہے نکاح کرلے،اور اگر اب تك خلوت نہ ہُوئی تو بعد طلاق فورًا جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے۔
|
فی الھندیۃ من باب العنین علیھا العدۃ بالاجماع ان کان الزوج قد خلابھا وان لم یخل بھا فلاعدۃ علیھا[2]الخ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
ہندیہ میں"نامردکے احکام"کے باب میں ہے کہ عورت پر بالاجماع عدّت ہوگی جب خاوند نے خلوت کرلی ہو،اور اگر خلوت نہ پائی ہوتو پھر عورت پر عدّت نہیں ہے الخ واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ٢٥٩: از محکمہ پیمائش ضلع گور کھپور مرسلہ منشی فریداحمداہلکار پیشی کرنیل ٩ربیع الاوّل١٣٠٥ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مریم دس۱۰ برس کی تھی اور زید پندرہ۱۵ برس کا کہ ان کے والدین نے برضا ورغبت خود ان کانکاح کردیا جب مریم بالغہ ہوئی تو اسے ظاہر ہواکہ شوہر نامرد ہے اس صورت میں وُہ نکاح ہوا یا نہیں،اور مریم بے طلاقِ زید کے دوسرے سے نکاح کرسکتی ہے یانہیں،اور شوہر طلاق نہ دے تو صورتِ خلاص کیا ہے،دعوی مہرپہنچتا ہے یانہیں۔بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں نکاح قطعًا صحیح ہے لصدررھا عن اھلہ فی محلہ(کیونکہ یہ نکاح اپنے محل میں اپنے اہل سے صادر ہوا ہے۔ت)اور جب تك زید کی طرف سے طلا ق نہ ہو اس کی زوجہ ہے،اور دوسرے سے نکاح ہرگز جائز نہیں،قال اﷲتعالٰی وَّالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ [3] (اﷲتعالٰی نے فرمایا :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع