30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لاتصح ولایۃ القاضی حتی یجتمع فی المولی شرائط الشہادۃ کذافی الھدایۃ من الاسلام والحریۃ و التکلیف١[1]الخ۔ |
قاضی کی دی ہُوئی مہلت بھی تب معتبر ہوگی جب اس قاضی میں تقرری کے تمام شرائط موجود ہوں،وہ شہادت والے شرائط ہیں یعنی اسلام،آزاد ہونا اور مکلّف ہونا الخ(ت) |
ظاہر ہے صورت مظہرہ سوال میں شوہر کا جنون نَو پیدا تھا کہ بغرضِ ثبوت ہنوز چار ہی مہینے گزرے تھے تو جوز نکاح ثانی وتحصیل فرقت کا یہ طریقہ ہرگز نہ تھا کہ حاکم اسے نکاح ثانی کی اجازت دے دیتا بلکہ اُس پر فرض تھا کہ ثبوتِ کامل کے کر سال بھی کی مہلت دیتا اُس کے بعد کاروائی مذکور کرتا۔یہاں نہ سال١کی مہلت دی گئی،نہ بعد٢مہلت عورت نے دوبارہ دعوٰی کیا،نہ بعد٣تخییر عورت نے اُسی جلسہ میں اپنے نفس کر اختیار کرنا ظاہر کیا،طرفہ٤یہ کہ حاکم سرے سے مسلمان بھی نہیں،ایسی کاروائی اصلًا قابلِ اعتبار نہیں ہوسکتی،نہ اس کے سبب وُہ زوجیّت شوہر اوّل سے باہر آسکتی ہے،نکاح وطلاق ہم مسلمانوں کے دینی ومذہبی معاملات ہیں جن میں ہماری شریعت تمام احکام کی مراعات بغیر چارہ نہیں،اگر کوئی زنِ شوہر دار کو بے وقوع طلاق وافتراق اجازت نکاح دے دے تو کیا اُسے جائز ہوجائے گا کہ وُہ جس سے چاہے نکاح کرلے،حاشا ہرگز روانہ ہوگا نہ وہ عصمت شوہر سے باہر آئے گی۔یہاں بعینہٖ یہی صورت واقع ہُوئی،طرہ یہ کہ عورت عدت بھی نہ بیٹھی اجازت سے دس١٠ ہی دن بعد نکاحِ ثانی کرلیا،اس کے حرام ہونے میں کیا شبہہ ہے،ہم ابھی عالمگیری سے نقل کر آئے کہ یہ تفریق بائن ہوتی ہے،اور طلاق میں تین حیض کی عدّت فرض۔
|
قال اﷲتعالٰی وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنۡفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوۡٓءٍؕ[2]۔ |
اﷲتعالٰی نے فرمایا: عدّت والی عورتیں اپنے آپ تین حیض کامل ہونے تك پابند رکھیں(ت) |
بالجملہ یہ دوسرا نکاح بالیقین ناجائز،اور ہمارے سب ائمہ کے نزدیك یہ وہی چیز قانون حال میں ازدواج مکرر کہتے ہیں،اور کوئی سفیہ سافیہ گمان نہیں کرسکتا کہ مرورِ مدّت سے زوجیّت زوجل ہوگئی اور ہوگئی اب شوہر کس بناپر دعوٰی کرسکتا ہے ولاحول ولاقوّۃ الّاباﷲ العلی العظیم،پس عورت پر واجب حتمی ہے کہ اس حرام سے باز آئے اور اپنے شوہر کے سوا دوسرے سے کنارہ کرے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع