30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
خوفِ برادری کہ حدِ اکراہ تك نہ ہو کوئی عذر نہیں۔ |
٤٥١ |
شوہر کو شك ہو کہ دو طلاقیں تھیں یا تین ، تو دو ہی سمجھی جائیں گی جب تك گواہوں سے تین ثابت نہ ہوں۔ |
٤٥٧ |
|
آج سے اس قدر ماہوار ماہ بماہ دیا کرے گا، نہ دے تو طلاق واقع ہوگی۔ اس صورت میں ایك مہینہ گزرگیا اور نہ دیا تو طلاق واقع ہوجائےگی۔ |
٤٥٢ |
"میں نے تجھ کو طلاق دی میرے گھر سے نکل جا"دوبار کہا اور لفظ"نکل جا"سے ایك بار بھی نیتِ طلاق کی تو تین طلاقیں واقع ہوگئیں۔ |
٤٥٧ |
|
شوہر کے خط پر اطمینان ہو کہ اسی کا لکھا ہوا ہے تو عورت اپنے کو مطلقہ تصور کرسکتی ہے۔ لیکن پردیس سے آکر انکار کرے تو گواہوں کی ضرورت ہوگی۔ |
٤٥٢ |
لفظ"گھر سے نکل جا"رَد کا احتمال بھی رکھتا ہے اس لئے حالتِ مذاکرہ میں بھی نیت کی ضرورت ہے۔ ۴۵۷ عورت کو حرام سمجھنے سے کچھ نہیں ہوتا ۔ لفظ بائن زبان سے کہے بائن ہوگی نیت کی ضرورت نہیں۔ |
۴۵۸ |
|
میاں بیوی کے اختلاف کی صورت میں طلاق کے گواہ عورت کے معتبر ہوں گے۔اگر گواہ عادل نہ ہوں تو شوہر سے قسم لے کر فیصلہ کیا جائے گا، شوہر کے گواہ پیش نہیں ہوسکتے۔ |
٤٥٣ |
ایك یا دو طلاق دے کر نکاح کیا تو حل جدید کے ساتھ نہ لوٹے گی۔ |
٤٥٩ |
|
زوجہ نے دعوٰی کیا کہ شوہر نے مجھے یہ کہہ کر گھر سے نکال دیا کہ"میری ماں کی وصیّت ہے کہ اگر اپنی بیوی کو زوجیت میں رکھے گا میں حشر میں دامنگیر ہوں گی"اس سے طلاق نہ ثابت ہوگی بلکہ اتنا اگر خود شوہر اقرار کرے تو اس سے بھی طلاق ثابت نہ ہوگی۔ |
٤٥٣ |
ایك مجلس کی تین، تین ہی ہیں ۔ |
٤٥٩ |
|
عورت کو گھر سے نکال دینا طلاق نہیں جب تك زبان سے بنیت طلاق نہ کہے کہ نکل جا۔ |
٤٥٣ |
آن واحد میں تین اکھٹی طلاقیں واقع ہونا کسی آیت وحدیث سے ثابت نہیں تو سیّدنا حضرت عمر فاروق رضی اﷲتعالٰی عنہ نے یہ حکم کہا ں سے لیا اور س پر اجماع کیسے منعقد ہوگیا۔ |
٤٥٩ |
|
لفظ"جا"حالتِ مذاکرہ میں طلاق ثابت کریگا اور اس سے پہلے کی طلاق صریح اس کے لئے مذاکرہ ہوگی۔ |
٤٥٤ |
ایك مجلس میں تین طلاقوں کے وقوع کے منکر مخالفِ سواد اعظم ہیں۔ |
٤٥٩ |
|
طلاق بائن سے عورت فورًا نکاح سے نکل جاتی ہے۔ |
٤٥٥ |
حکمِ عمر رضی اﷲتعالٰی عنہ حکمِ خدا ہے۔ |
٤٥٩ |
|
زبان سے کہا طلاق دیتا ہوں، طلاق نامہ لکھا گیا میں تجھ کو تلاخ دیتا ہوں، گواہ ایك عورت، اس مسئلہ کی مختلف صورتوں کے احکام ۔ |
۴۵۵ |
حق سبحٰنہ وتعالٰی نے حقِ عمر میں فرمایا"لعلمہ الذین یستنبطونہ منکم" |
٤٥٩ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع