30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رابعًا تظافرشروحکہ بتصریح علماء فتاوٰی پر مقدم ہیں و سیاٰتی عن الغمر(غمز سے عنقریب منقول ہوگا۔ت)
خامسًا اس پر جزم واعتماد کرنے والوں کی کثرت۔امداد الفتاح وردالمحتار وعقوالدریہ میں ہے: القاعدۃ ان العمل بما علیہ الاکثر[1] (قاعدہ یہ ہے کہ اکثریت کے قول پر عمل ہوگا۔ت)
سادسًا اس کر مرجح ومختار رکھنے والوں کی جلالت وعظمت جن میں مثل برہان الدین صاحب ہدایہ وامام قاضی خاں وامام محقق علی الاطلاق وغیرہم اجلہئ ائمہ اعلامہ ہیں،علماء فرماتے ہیں امام قاضی خان کی ترجیح اوروں کی ترجیح پر مقدم ہے اور فرماتے ہیں اُس سے عدول نہ کیا جائے کہ وہ فقیہ النفس ہیں کما فی ردالمحتار وغیرہ(جیسا کہ ردالمحتار وغیرہ میں ہے۔ت)
سابعًاقوّتِ دلیل کہ بعد ملاحظہ تبیین الحقائق وفتح القدیر آفتاب کی طرح واضح ہوجاتی ہے۔
|
اقول: فثبت بحمد اﷲ نقول الحاوی القدسی بقول محمد ھنا بہ ناخذ کما نقلہ عنہ فی الھندیۃ انما ھو کقولہ ایضالروایۃ شاذۃ عن ابی یوسف مخالفۃ للمذہب المعتمدالمجمع علیہ بین المتون والشروح والفتاوی وھی عدم کراھیۃ النفل یوم الجمعۃ عند الاستواء لان النار لاتسعرفیہ ان علیہ الفتوی کما نقلہ فی الاشباہ عن الحلیۃ عن الحاوی قلت والمراد ھوھذا اعنی حاوی القدسی فقد رأیت التصریح بہ فی الحلیۃ قال العلامۃ السید الحموی فی غمزالعیون مجردد عوی الحاوی ان الفتوی علیہ لایقتضی انہ المصحح |
اقول:(میں کہتا ہوں)الحمد ﷲ یہ ثابت ہوگیا کہ حاوی قدسی کایہاں کہنا کہ امام محمد کے قول کو ہم لیں گے،جیسا کہ ہندیہ میں ان سے منقول ہے،تو یہ ایسے ہے جیسے انہوں نے امام ابویوسف سے ایك شاذ روایت جو کہ معتمد مذہب اور تمام متون وشروح وفتاوٰی کے خلاف ہے کہ جمعہ کے روز استواء شمس کے وقت نفل پڑھنا مکروہ نہیں کیونکہ اس دن آگ شعلہ زن نہیں ہوتی،کے متعلق علیہ الفتوٰی(اس پر فتوٰی ہے)کہہ دیا،جیسا کہ اس کو اشباہ میں حلیہ سے انہوں نے حاوی سے نقل کیا ہے قلت(میں کہتاہوں)وہاں حاوی سے یہی حاوی قدسی مراد ہے کیونکہ میں نے اس کی تصریح حلیہ میں دیکھی ہے،علامہ سید حموی نے غمز العیون میں فرمایا کہ حاوی کاصرف یہ دعوی کرنا کہ"اس پر فتوٰی ہے"سے لازم نہیں آتا کہ یہ تصحیح شدہ |
[1] العقودالدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی الحادیۃ مسائل وفوائد شتی من الحظر والاباحۃ حاجی عبدالغفار وپسران قندھار افغانستان ٢/٢٥٦
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع