30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باہرہوگئی کہ طلاق لفظ سے ہوئی
ہے دل کا تصور کچھ نہیں،اسی خط میں اس میں اس نے کہا ہے کہ میری بی بی الخ
خط سوم میں فیصلہ دوسرے کے سر رکھا ہے اور یہ کہ جو آپ چاہیں گے میں لکھ دوں گا،یہ
ایك وعدہ ہے اور وہ ایك رائے ہے کہ بہتر ہے کہ وُہ بھی آزادانہ ذندگی بسر کریں یہ
کہ اُسے آزاد کیا۔
خط چہارم میں طلب مشورہ ہے۔
خط پنجم میں جب تك زہرہ نہ مل جائے طلاق دینے سے انکار ہے۔
غرض ان خطوط میں کوئی حرف صورتِ طلاق کانہیں چارہئ کار معززین کے دباؤ خواہ نالش سے مجبور کرتا ہے کہ نان نفقہ دے یا طلاق،بغیر اس کے کوئی صورتِ خالص نہیں۔امام شافعی رضی اﷲتعالٰی عنہ بھی نفقہ نہ دےنے پر تفریق نہیں کراتے بلکہ عاجز محتاج ہونے پر جوادائے نفقہ پر قادر نہ ہو اوراگر ہو بھی تو حنفی کو اپنے امام کا اتباع واجب ہے۔واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٢٥٥: از رامپور محلہ گھیر یُوسف الدین خاں دیوار جنوبی انگوری باغ متصل مسجد پاکھر مطب نمبر ٣٤ مسئولہ سید مختار احمد یتمٰی ڈاکٹر ١٧جمادی الاولٰی
ایك مرد مسلمان کا پاك عورت مسلمان کے ساتھ عقدِ شرعی ہُوا،لیکن اب منکوحہ سے شوہر مذکورکوئی تعلق ظاہری وباطنی نہیں رکھتا اور ہرطرح منکوحہ سے بے پروا ہے ابتدائے نکاح سے ہنوز کوئی بات تخلیہ شوہریت کا بھی نہیں ہُوا معلوم ہوا کہ شوہر دائرہ مردانیت سے بالکل بعید ہے یعنی نامرد ہے لہذا اس قسم سے یا ایسے نامرد سے منکوحہ نکاح جائز ہے یا ناجائز،اس عورت کو کیا عمل کرنے کی ضرورت ہے،اور موافق حدیث شریف کیا حکم ہے؟
الجواب:
نکاح صحیح ہوگیا،عورت بےموت یا طلاق جُدانہیں ہوسکتی اگرچہ مردنامرد ہو۔ہاں چارہ کارحاکمِ شرعی کے یہاں دعوٰی ہے وہ اس ثبوت لینے کے بعد کہ مرد اس پر قادر نہ ہوا،مرد کو ایك سال کی کامل مہلت دے کہ اپنا علاج کرے،اس سال میں عورت مرد سے جُدا نہ رہے اگر سال گزر جائے،اور اب بھی قادر نہ ہو عورت پھر دعوٰی کرے اور حاکم پھر ثبوت لینے کے بعد عورت پُوچھے کہ تُو اپنے اس شوہر کے پاس رہناچاہتی ہے یا اپنے نفس کو اختیار کرتی ہے،اگر عورت فورًا بلاتاخیر کہہ دے کہ میں نے اپنے نفس کو اختیار کیا،تو حاکم اُن میں تفریق وجُدائی کردے،یہ تفریق طلاق ہوئی،اور اب بعد عدّت عورت دوسرے سے نکاح کرسکے گی ورنہ نہیں،یہ حکم عورت کی جانب ہے،رہامرد،اُسے حکمِ شریعت ہے کہ جب وُہ عورت کا حق ادا نہیں کرسکتا تو اُس پر فرض ہے کہ عورت کو طلاق دے دے نہ دے گا تو گنہگار ومستحقِ عذاب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع