30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(٣)جواب: آپ کا تو اب یہ خیال ہے جناب قبلہ خواشد امن صاحبہ نے بعد انتقال خسر صاحب مجھ کو یہاں سے بُلایا اور مُجھ سے بجائے اسکے ککہ وُہ رکھنے پر مجبور کرتیں یہ کہا کہ تم طلاق دیدو تو بہتر ہے میں خاموش ہورہا اگرمیں طرح نہ دے دیتا تو جب ہی معاملہ طے تھا مگر مجھے خالوتوں سے واقفیت ہوگئی اور میں نے پھر وہاں رہ کر انتظار کیاکہ شاید مزاج عالی درست ہوجائے مگر ماشاء اﷲ اُس مزاج مبارك نے وہ عروج حاصل کیا کہ ہمیشہ سے چہار چند سوار نگرد کھلایااور خیر مجھے شکایت نہیں ہے میں ایسے نافرمان متکبر لوگوں کی صحبت میں کبھی رہنا پسندنہیں کرتا اس واسطے کہ میں خود بدطینت ہُوں اس وجہ سے بہتر ہے کہ وُہ بھی آزادانہ زندگی بسرکریں میری بھی یہی رائے ہے لیکن یہ لکھ دیجئے کہ زہرہ کا کیا حشر ہوگا یہ فیصلہ آپ کے سر ہے جو آپ کردیں اگر زہرہ کو بھی دے دیں تو آپ کو مرضی،میں تیار ہوں،اگر آپ نہ دیں تو بھی راضی ہوں،بہر حال جو تصفیہ آپ کریں اس خط کے جواب پر آپ جو چاہیں گے میں لکھ دُوں گا(بعدہ،دوسرا خط آیا)
(٤)برائے کرم جواب سے خط ہذا کے مطلع فرمائیے تاکہ جو رائے ہو اس پر عمل در آمد کیا جائے،اس پر عمرو کے یہ کہنے پر کہ زہرہ ابھی صغیر سَن ہے اور تم لوگوں کی صورت سے ناآشنا ایسی حالت میں اس کو علیحدہ کرنا گویا زندہ درگور کرنا ہے،لہذا یہ معاملہ آئندہ پر رکھو اور اپنی علیحدگی کی تحریر دوچار دستخط کرکے بھیج دو تمہارے اطمینان کو یہ لکھے دیتے ہیں کو ہندہ کے تمام حقوق بشرطیکہ تم اپنی تحریر ایسی بھیجد ومعاف ہیں(اس کو جواب یہ آیا)
(٥)میں یہ نہیں چاہتا کہ فی الحال،زہرہ آپ لوگوں سے علیحدگی کی جائے کیونکہ ابھی وُہ صغیرہ ہے جب تك وہ ہوشیار نہ ہوجائے تب تك میں اس کو وہاں رکھنا پسند رکتا ہوں جس وقت وہ مجھ تك نہ آجائیگی جب تك یہ امر دشوار ہے،فقط۔
الجواب:
پہلا خط خوشدامن کے نام ہے اُس میںنہ زوجہ سے خطاب نہ اس کا ذکر۔اگر خود زوجہ سے کہتا تم کو اختیار ہے اور تفویضِ طلاق چاہتا تو اختیار بھی اُسی مجلس پر موقوف رہتا نہ کہ اب تك مستمر۔درمختارمیں ہے :
|
قال لہا اختاری اوامرك بیدك ینوی تفویض الطلاق فلھا ان تطلق فی مجلس علمھا بہ مالم تقم او تعمل مایقطعہ۔[1] |
خاوند نے بیوی کو کہا تجھے اختیار ہ،یا ترا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے۔اور یہ الفاظ بیوی کو طلاق کا اختیار دینے کی نیت سے کہے تو بیوی کو اسی مجلس میں جس میں اس کو اس اختیار کے ملنے کی اطلاع ملی اپنے کو طلاق دینے کا اختیار ہوگا بشرطیکہ وہ سُن کر وہاں سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع