30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
دو طلاقیں فلاں کی لڑکی اور فلاں کہہ کردیں اور تیسری میں عورت کا نام لیا تینوں طلاقیں واقع ہوگئیں۔ |
٤٤٤ |
دوسرے کی دی ہوئی طلاق جب تك شوہر نافذ نہ کرے محض بے اثر ہوتی ہے۔ |
٤٤٧ |
|
مرسوم ومعہود وتحریر مطلقًا معتبر وموجب وقوعِ طلاق ہے جبکہ بلا اکراہ ہو۔ |
٤٤٥ |
تحریر سے شوہر کا اقرار یا ثبوت ضروری ہے ۔ |
۴۴۷ |
|
طلاق نامے کی تحریر پر زن واولیاء زن کہاں تك کاربند ہوسکتے ہیں، اس کی تین صورتیں ہیں۔ |
٤٤٥ |
شوہر نے دوسرے کوکہا کہ میری بیوی کو اس کی طلاق کی خبر دے دو یا اس کو کہہ دو کہ وہ طلاق والی ہے یا اس کو لکھ دو کہ وُہ طلاق والی ہے تو طلاق فی الحال واقع ہوجائے گی۔ |
۴۴۸ |
|
تحریری طلاق نامہ بصیغہ رجسٹری ہی کیوں نہ ہو شوہر انکار کردے تو ثبوت کے لئے گواہوں کی ضرورت ہوگی۔ |
٤٤٥ |
"آپ کو اجازت دیتا ہوں کہ اس کا نکاح کسی دوسرے شخص کے ساتھ کردیں"اس جملہ سے مذاکرہ یا نیت کے ساتھ طلاق پڑجائے گی۔ |
۴۴۸ |
|
قاضی حجتِ شرعیہ کے ساتھ فیصلہ کرے گا، نہ مجرد خط کے ساتھ کیونکہ خط خط کے مشابہ ہوسکتا ہے۔ |
٤٤٥ |
طلاق صریح جب بائن کو لاحق ہو تو بائن ہوجاتی ہے۔ |
٤٥٠ |
|
شوہر کے اقرار وانکار کا پتا نہ چلے تو عمل غلبہ ظن پر ہوگا اور اگر شوہر آکر انکار کردے تو یہ غلبہ ظن کام نہ دے گا۔ |
٤٤٥ |
خط اس کو سُنادیں تاکہ طلاق شرعًا اس پر واجب ہوجائے، طلاق معلّق ہے۔ |
۴۵۰ |
|
کافی لرخصۃ العمل اور مغنی حاجت الاثبات میں شرعًا فرق زمین وآسمان کا ہے۔ |
٤٤٥ |
میں نے پانی زوجہ کو علیحدہ کردیا طلاق بائن ہے۔ |
٤٥١ |
|
یہ تحریرکہ میری عورت کو کہہ دینا کہ میں نے ایك طلاق اپنی عورت کو دی، تحریر کے وقت سے ہی طلاق واقع ہوگئی چاہے کوئی عورت کو اطلاع دے یا نہ دے۔ |
٤٤٧ |
کسی نے پوچھا"اپنی زوجہ ثانیہ کو طلاق دے دی"اس نے کہا"ہاں"۔ یہ نیت طلاق کا بیان ہے۔ |
٤٥١ |
|
طلاق رجعی میں ایّام عدت کے اندر زبان سے رجعت کرسکتا ہے عورت کی رضا مندی ضروری نہیں۔ |
٤٤٧ |
صریح طلاق میں نیّت کی ضرورت نہیں۔ |
٤٥١ |
|
طلاق رجعی کی صورت میں عدت گزر جائے تو شوہر عورت کی رضامندی سے بلاحلالہ از سرِ نو نکاح کرسکتاہے۔ |
٤٤٧ |
طلاق خود تحریر کرنا یا دوسرے کے لکھے ہوئے کو سُن کر اپنے دستخط کردینا ایك ہے۔ |
٤٥١ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع