30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یخالف مذہبہ درصحیح القدوری علامہ قاسم باز ودرمختار ست الحکم والفتیا بالقول المرجوح جھل وخرق للاجماع[1] (ومجتہد خود از صدہا سال مفقود است،آرے اگر قاضی شرعی شافعی المذہب باشد یاحنفی مگر سلطان کہ اورا برقضاداشتہ است اذن دادہ باشد مثلًا ہنگام ضرورت بقول مرجوح فی المذہب یا بمذہب دیگر قضاکنی آں گاہ قضائے اوصحیح ونافذ باشد وپیداست کہ ایں تفریق اگر باشد بخاطر جااگر بے تفریق قاضی شرع ولی بزنے دیگر دہد یازن خودش بدگرے نکاح کند زنہار جائز نیست ناکح ومنکوحہ ہردوبزہ کار ومنکح نیز اگربریں حال مطلع باشد بوقتِ ضرورت اگر صادقہ باشد عمل بقول مرجوح یا مذہب امام دیگر درآں خاص مسئلہ مبتلابرائے نفس خودش عمل میتواں کرد فامامفتی رانمی رسد کہ باوفتوی دہدیاقاضی مقلد مقید بالقضابالمذہب باوحکم تواں کرد واگر کند باطل شد کما قد مناوکل ذلك مصرح بہ فی الکتب المعتمدۃ و آنکہ برائے نفس خودش باوعمل کند واجب ست کہ جملہ شرائط آں قول مرعی دارد مثلًا قول امام محمد در تفریق زن مجنون شرط تفریق قاضی کہ بے روبراں قول مرجوح ہم عمل بناشد بلکہ بہوائے نفس والعیاذ |
فسخ باطل ہوگا کیونکہ مقلد اپنے مذہب کی مخالفت نہیں کرسکتا،قدوری کی تصحیح میں علامہ قاسم نے اور پھر درمختار میں فرمایا کہ فتوٰی اور فیصلہ قولِ مرجوح پر جہالت ہے اور اجماع کےخلاف ہے،اور مستقل مجتہدصدیوں سے مفقود ہے،ہاں اگر شافعی یا حنفی قاضی کو سلطان نے عہدہ پر مقرر کرتے ہوئے یہ اجازت دی ہو کہ وُہ ضرورت کی بنا پراپنے مذہب کے مرجوح قول یا دوسرے مذہب پر فیصلہ کرسکتا ہے تو اس قاضی کافیصلہ صحیح ہوگا اور نافذ بھی ہوگا۔اور یہ واضح ہے کہ اگر یہ تفریق ہوگی توعورت کی خاطر ہوگی،شریعت کے حق کے لئے نہ ہوگی جبکہ ہم اُوپر بیان کرچکے ہیں کہ ایسی صورت میں اگر ولی نے یاخود عورت نے قاضی کی تفریق کے بغیر دوسرے شخص سے نکاح کیا تو ہر گز جائز نہ ہوگا،نکاح کے دونوں فریق اور نکاح کرکے دینے والے زناکاری میں مبتلا ہوں گے بشرطیکہ نکاح پڑھانے والے کو صورتِ حال کا علم ہو،ضرورت اگر صحیح اور واقعی ہوتو پھر مرجوح قول یا دوسرے مذہب پر مبتلا شخص کو چاہئے کہ وُہ خود عمل کرے لیکن مفتی ہرگز فتوٰی نہیں دے سکتا،اور وُہ قاضی بھی جو اپنے مذہب کے مطابق فیصلے کرنے کا پابند ہو،وہ بھی ایسا فیصلہ نہیں کرسکتا اگر فیصلہ کرے گا تووُہ بھی باطل ہوگا جیسا کہ ہم پہلے بیان کرآئے ہیں اور قابل اعتمادکُتب میں اس کی تصریح موجود ہے،اور اگر مبتلا شخص خود دوسرے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع