30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
شرع مطہر است چنانکہ امامت درنماز حق حکام ست فاما شرط اسلام ست،واﷲتعالٰی اعلم۔ |
خاوند کا حق اس عورت پر باقی ہے،اور شرعًا یہ تفریق نہ ہوگی کیونکہ یہ دینی معاملہ ہے جس میں شرع کو ہی حق ہے،لہذا یہ کاروائی قاضی کے بغیر نہ ہو سکے گی۔کیونکہ وہی شرع کا نائب ہے،جیسا کہ نماز میں حقِ امامت حاکم کو ہی حاصل ہے،ہاں مسلمان ہونا شرط ہے۔واﷲتعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ٢٤٨: سائل مذکوررالصد(سائل وہی پہلے مذکور ہے۔ت)
|
زنے راکہ شوہرش دیوانہ شدہ از سہ چہار سال بہسپتال مقید گردیدہ است میرسد کہ بلا تفرقہ قاضی شرعی یا بلاحکمِ حاکم فسخِ نکاح خودکند یا نہ و بلا انقضائے عدّت فسخ بادیگرے نکاح خود میتواند کردیانہ یا ولی اورا میرسد کہ بطلب اویا بلاطلب او تفریق را وبلا تفرقہ قاضی محج بجہت مجنون شدن شوہر نکاح اوبدیگرے کردہ بدہد یانہ وبوقتِ ضرورت مثلًا خوفِ زناواحتیاجِ نفقہ وغیرہ عمل بمذہب دیگر یا بقول غیر مفتی بہ از اقوال کے از ائمہ حنفیہ روا باشد یا نہ وبشرطِ جواز قول کسے دربارہ جواز فسخ نکاح آں مجنون الزوج رابلا تفرقہ قاضی ہست یا نہ،ودرصورت عدم فسخ نکاح حکم ناکح ومنکوحہ ومنکح چیست۔ |
جس عورت کاخاوند دیوانہ ہونے کی وجہ سے تین چار سال ہسپتال میں پابند ہے ایسی عورت کو یہ اختیار ہے کہ وُہ قاضی کی تفریق کے بغیر یا حکمِ حاکم کے بغیرنکاح فسخ کرلے یانہیں ؟اور فسخ کی عدت پوری کئے بغیر دوسرے شخص سے نکاح کرسکتی ہے یانہیں ؟ یا کیا اس کے ولی کو یہ اختیار ہے عورت کے مطالبہ پر یابغیر مطالبہ خود ہی قاضی تفریق کے بغیر صرف خاوند کے مجنون ہونے کی بناپر دوسرے شخص سے اس عورت کا نکاح کردے یانہ ؟ اور کیا بوقت ضرورت مثلًا زنا یا نفقہ کی محتاجی کے خطرہ پر غیرمفتٰی بہ قول کے مطابق حنفی مذہب کے علاوہ دوسرے کسی مذہب پر عمل جائز ہوگا یانہیں ؟ اگرجائز ہے تو دوسرے کسی امام کے مذہب پر خاوند کے مجنون ہونے پر قاضی کے بغیر فسخِ نکاح کا اختیار ہے یانہیں ؟قاضی کے فسخ کے بغیر عدمِ جواز کی صورت میں نکاح کرانے والے اور نکاح کرنے والے مرد اور عورت کا کیا حکم ہے؟ |
الجواب:
|
شوہراگرمجنون گردد نزد ماہیچ گاہ فسخِ نکاح نتواں شد واگرقاضی شرع مقلد حنفی حکم بفسخ کند نیز باطل ست اذلیس للمقدان |
خاوند اگر مجنون ہوجائے تو کسی طرح بھی ہمارے مذہب حنفی میں نکاح کا فسخ جائز نہیں ہے۔اگر قاضی حنفی مذہب کامقلد ہوتو اگر وُہ فسخ کرے گا تو اس کا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع