30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کہ قاضی شرع عدیم الوجودست حکم حاکم غیر مسلم مناسب تفرقہ قاضی میواند شد یا نہ بتقدیر جواز نیابت اذن اولا بدیست یانہ؟ |
میں شرعی قاضی موجود نہیں تو کیا غیر مسلم حکمران قاضی کے قائم مقام ہوکر نکاح کو فسخ کرسکتے ہیں یانہیں اور اگر یہ فسخ کرسکتے ہیں تو کیانیابت کیلئے ان کو اجازت حاصل کرنا ضروری ہے یانہیں ؟(ت) |
الجواب:
|
فسخ نکاح بردوگونہ است یکے آنکہ حقا للشرع باشد مقارن ہمچونکاح زنے برخواہرش یا اصول وفروع ممسوسہ یا آنکہ حرمت رضاعت داشتہ باشد الٰی غیرذٰلك خواہ طاری چوں آنکہ رضاع یا مصاہرت بعد نکاح حرمت آرد یا شوہر مرتد شود والعیاذباﷲ تعالٰی درہمچوصور ہیچ حاجت قضانیست برہریك زن وشوہر واجب ست فسخ کردنش اعظا ما للشریعۃ واعد اما للمعصیۃ نص علیہ فی الدر المختار وغیرہ من معتمدات الاسفار، دوم آنکہ برائے حق زن باشد چوں خیار بلوغ وعنین وغیرہما اینجا قضائے قاضی شرط ست تنہا زن یاولی اوباد مستبد تنواں شد اگر ولی بے تفریق قاضی جُدا کردہ بزنے دیگر دہد حرام باشد زیرا کہ حق زوج باد متعلق ست وشرع حکم بتفریق نہ فرمودہ است واصل ایں منصب شرع مطہرر است کہ کار کارِدین ست پس ایں تفریق نہ رسد مگر قاضی راکہ نائب
|
نکاح کا فسخ دو٢قسم ہے،ایك شرع کی پاسداری کےلئے،اور یہ شرعی حق کوابتداء سے عارض ہو،جیسے بیوی کی موجودگی میں اس کی بہن سے نکاح،یا بیوی کے اصول(ماں،دادی)وغیرہ یا فروع(بیوی کی پہلی بیٹی)کو شہوت سے چُھواہو،یابیوی رضاعت کی وجہ سے حرام ہو وغیرہ ذالک،یا شرعی حق نکاح کے بعد لاحق ہُوا،مثلًا رضاعت یا مصاہرت کی حرمت نکاح کے بعد عارض ہوئی ہو یا والعیاذباﷲتعالٰی،خاوند مرتد ہوگیا ہو تو ان تمام صورتوں میں فسخ نکاح کےلئے قاضی کی کوئی ضرورت نہیں، بلکہ مرد وعورت دونوں پر لازم ہے کہ وُہ فسخ قرار دے کر جدائی اختیار کریں تاکہ شریعت کی تعظیم اور گناہ سے اجتناب کیا جاسکے،اس پردرمختار وغیرہ معتبر کتب میں تصریح کی گئی ہے،فسخ کی دوسری قسم یہ ہے کہ بیوی کے حق کی وجہ سے فسخ کیاجائے مثلًا بیوی کوبالغ ہونے پر فسخ کا اختیار حاصل ہو یا خاوند نامرد ہو وغیرہ،تو اس قسم میں فسخ کے لئے قاضی شرط ہے،بیوی یا اس کے ولی کو مستقل اختیار نہیں کہ وُہ قاضی کے بغیر جُدائی کا فیصلہ کریں،اگر اس صورت میں ولی نے قاضی کے بغیر ہ عورت کا دوسرے سے نکاح کردیاتو یہ نکاح حرام ہوگاکیونکہ ابھی پہلے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع