30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وان لم یکن فی جوارھا من یوثق بہ او کانوا یمیلون الی الزوج امرہ باسکانھا بین قوم صالحین[1]۔ |
کرے ورنہ اسی مسکن میں رہنے دے،او اگر اس کے پڑوس میں کوئی ثقہ آدمی نہ ہو یا پڑوسی خاوند کی طرفداری کریں تو خاوند کو پابند کرے کہ وہ بیوی کو نیك لوگوں میں رہائش دے۔(ت) |
مگر غیر لوگوں سے اس زمانے میں نہ ایسی اُمید نہ ایسے لوگو ملیں گے پر نان نفقہ لازم کای جائے لانھا لیست بناشزۃ لان امتناعھا بحق(کیونکہ وُہ نافرمان نہیں کیونك اپنے حق کےلئے وُہ خاوند کو جماع سے روکتی ہے۔ت)پھر اگر اُس کے ساتھ خولت میں اندیشہ ہوتو اس سے منع کریں اور یہی صورت معتبر ہے،اور اگر اب اندیشہ صحیحہ ہواور بندوبست کافی کی اُمید نہ ہو اور فی الواقع شرابی کا بندوبست ناممکن سا ہے تو حاکم شوہر پر جبر کرے کہ عورت کوطلاق دے۔اﷲتعالٰی فرماتا ہے:
|
فَاَمْسِکُوۡہُنَّ بِمَعْرُوۡفٍ اَوْ سَرِّحُوۡہُنَّ بِمَعْرُوۡفٍ۪ [2] |
ان کو پاس روکے رکھو بھلائی کے ساتھ،یا ان کو فارغ کردو بھلائی کے ساتھ۔(ت) |
عورتوں کو تو اچھی طرح رکھو یا اچھی طرح چھوڑدو،جب اچھی طرح رکھنا نہیں تو اچھی طرح چھوڑنا اس پر واجب ہُوا اور ترك واجب گناہ ہے اس گناہ پر حاکم سزادے سکتا ہے،
|
کمافی البحر والدروغیرھما ان کل مرتکب معصیۃ لاحد فیھا فیھاالتعزیر[3]۔ |
جیسا کہ بحر میں ہے کہ وُہ گناہ جس پر حد نہ ہو اس پرتعزیر ہوتی ہے۔(ت) |
بغیر اس کے بطور خود فسخ نکاح کی صورت ہمارے یہاں مذہب میں نہیں ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٢٤٧: ازموضع گھورنی ڈاك خانہ کرشن گڑھ ضلع ندیا ٣جمادی الاولٰی ١٣٣٦ھ
|
فسخ نکاح بہروجہیکہ بود بلا تفرقہ قاضی شرع وبشرط بنودن قاضی شرع بلا حکم حاکم وقت میتواند شدیانہ،ودریں بلادِما |
نکاح کا فسخ جیسے بھی ہو،قاضی کو تفریق کے بغیر اور قاضیِ شرع نہ ہونے کی وجہ سے وقت کے حاکم کے بغیر ہوسکے گا یانہیں،اور ہمارے ملك |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع