30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مجبورًا ہندہ کے والدین نے عرصہ سات٤ سال کا ہُوابٹھالیا اس مدّت میں شوہر ہندہ نے نان ونفقہ کی کُچھ خبر نہ لی اور بدچلنی اس کی اب تك برابر اسی روش پر ہے عرصہ ڈھائی سال کے قریب ہُوا کہ ایك عورت اور کرلی ہے اسی دوران میں شوہر نے نالش دلاپانے زوجہ کے دائر کی کہ وُہ بوجہ ثبوت بدچلنی کے خارج ہوگئی پر شوہر نے اپیل بھی کی وُہ بھی خارج ہوگئی ہندہ کی یہ خواہش ہرگز نہیں ہے کہ میں اس موذی کے گھر جاؤں کیونکہ علاوہ دیگر تکالیف کے اب اندیشہ ئجان بھی غالب ہے اس لئے کہ نالش مذکور خارج ہوجانے سے مخالفت باہمی بہت کچھ بڑھ گئی ہے پس اس صُورت میں علمائے دین سے استفسار ہے کہ شوہر سے طلاق یا دست برداری ہوسکتی ہے یانہیں،اور شرعًا فسخ نکاح بھی رسکتا ہے یانہیں ؟
الجواب:
صُورتِ مستفسرہ میں عورت پر ہرگز جبرنہ ہوگا کہ شوہر کے یہاں جائے کہ اس میں دینی دُنیوی وجانی وجسمانی اُس کا ہر طرح کا ضررہے،جان جانے کا اندیشہ باقی وموجود اور ضرر شرعًا واجب الدفع ہے اﷲعزوجل فرماتا ہے: وَ لَا تُضَآرُّوۡہُنَّ[1]عورتوں کو ضرر نہ پہنچاؤ۔ رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
لاضرر ولاضرارفی السلام[2]۔ |
اسلام میں نہ ضرر ہے نہ کسی کو ضرر دینا۔ |
پس اگر کچھ لوگ صالحین واہلِ دین میسر ہوسکتے جن کی حمایت میں عورت کا رہنا شرعًا بھی جائز ہو اور وہ اس کی نگہداشت کافی طور پر کرسکیں اور شوہر کو اس کے دین جسم وجاں پر تعدّی نہ کرنے دیں جب تو عورت وہاں اپنے آپ کو سپردِ شوہر کرتی کہ اس میں دونوں کے حق مراعات رہتے۔ردالمحتار میں ہے:
|
فی البحر لوقالت انہ بضربنی ویوذینی فمرو ان یسکننی بین قوم صالحین فان علم القاضی ذٰلك زجرہ ومنعہ عن التعدی فی حقھا والایسأل عن صنیعہ فان صدقوھا منعہ عن التعدی فی حقھا ولا یترکھا ثمہ |
بحر میں ہے اگر بیوی نے قاضی کو درخواست دی کہ خاوند مجھے مارتا اور اذیّت دیتا ہے تو اس حکم دیجئے کہ مجھے نیك لوگوں میں سکونت دے،اگر قاضی خود اس معاملہ سے آگاہ ہوتو خاوند کو ڈانٹے اور مارنے اور زیادتی سے منع کرے،ورنہ پڑوسیوں سے خاوند کے رویے کے متعلق معلوم کرے اگر وہ بیوی کی تصدیق کریں تو قاضی خاوند کو زیادتی سے منع |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع