30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کچہری دیوانی میں دعوٰی طلاق دائرکیا۔شہادت وغیرہ پیش کرکے عورت نے اپنی طلاق کی ڈگری حاصل کرلی اب یہ عورت ازرُوئے شرع شریف دوسرے شخص سے نکاح کرسکتی ہے یانہیں،اور اگر بعد طلاق حاصل کردو شوہر اوّل اس سے بعد چار پانچ ماہ کے رجعت کرے تو جائز ہے یا نہیں ؟بینواتوجروا
الجواب:
اگرواقع میں زید نے طلاق دی تھی اور ہندہ نے سچّا دعوٰی رکے ڈگری لی تو اگر طلاق بائن تھی تو بعد عدّت مطلقا اور اگر رجعی تھی تو اس شرط پر کہ زید نے عدّت میں رجعت نہ کی ہو نکاح کرسکتی ہ،اور اگر زید نے واقع میں طلاق نہ دی تھی ہندہ نے جُھوٹے گواہ پیش کرکے ڈگری لے لی یا طلاق وجعی دی تھی اور ختم عدّت سے پہلے زید نے رجعت کرلی تو ہندہ کو دُوسری جگہ نکاح حرام قطعی ہےاگر کرے گی زناہوگاقال اﷲتعالٰی وَّالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ [1] (اﷲتعالٰی نے فرمایا:اور منکوحہ عورتیں حرام ہیں۔ت) حیض والی عورت کی عدّت تین حیض ہیں جو طلاق کے بعدشروع ہوکر ختم ہوں،
|
وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنۡفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوۡٓءٍؕ [2]۔ |
طلاق دی ہوئی عورت اپنے آپ کو تین حیض تك پابند کریں(ت) |
اگر اس چار پانچ مہینے یں تین
حیض شروع ہوکر ختم نہ ہوئے ہوں تو شوہر رجعت کرسکتا ہے ورنہ نہیں۔واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٢٤٦: ازبریلی محلہ بہاری پور مرسلہ غلام
مرتضٰی صاحب ١٦شعبان ١٣٢٦ھ
ہندہ صالحہ ہے اور اس کا شوہر فاسق فاجر موذی معلن سود خوار ہ اور شرابی وعیاش ہے،ہندہ کو مار پیٹ کرتا تھا بلکہ چاقو چھری سے آمادہ رہتا تھا اور ایك بار چاقُو مارا کہ جس سے گھائی دہنے ہاتھ کی کٹ گئی،دوسری مرتبہ ایك چاقو مارا جس بائی ہاتھ کی کلائی میں زخم پہنچا جس کے ہر نشان اب تك موجود ہیں،اکثر عورت کو شراب پینے پر بحالت نشہ مجبورکرتا تھا،چنانچہ ایك بار اس کے جبر پر ہندہ نے شراب سے نفرت ظاہر کی تو اس کے وہی گلاس ماراجس سے اس کو چوٹ لگ گئی اور آنکھوں میں شراچ پڑی جس سے آنکھیں دکھ آئیں اور عرصہ تك تکلیف رہی اور شخص مذکورتعلق ناجائز کئی عورتیں سے رکھتا تھا ان میں سے ایك عورت سے نکاح کرلیاتھا چند روز بعد اُسے مارپیٹ کر نکال دیا شوہر کی ان حرکاتِ ناشائستہ سے ہندہ نہایت پریشان رہتی تھی ار ان بدچلن عورتوں کو اکثر گھر میں رکھتاتھا آخر کار
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع