30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ایك شخص کی دو٢عورتیں ہیں، اس نے کہا"اپنی عورت کو طلاق دی"کسی کی تصریح نہ کی، اس کی مختلف صورتوں کا حکم۔ |
٤٣٦ |
جو شخص زید سے عداوت ظاہر ہ دنیویہ اس حد تك رکھنے والا ہو کہ اس کے باعث زید کے حق میں متہم ہو تو اس کی گواہی ضرر زید پر قبول نہیں ۔ |
۴۴۰ |
|
مسئلہ مذکورہ بالا کل اٹھاون٥٨ صورتوں کا تفصیلی بیان اور ان کے احکام۔ |
٤٣٦ |
انقضاءِ عدت کو اجنبی اور محلیت طلاق سے خارج کردیتی ہے۔ |
٤٤١ |
|
مذکورہ اٹھاون صورتوں کا حکم چار اصل کلی سے نکل سکتا ہے۔ |
۴۳۷ |
نشہ والے کی بیوی بھاگی اور وہ اس کے پیچھے گیا مگر اسے نہ پاسکا اور کہا"سہ طلاق"اگر کہتا ہےکہ بیوی مراد تھی تو طلاق ہوگئی۔ |
٤٤١ |
|
زنِ غیر مدخولہ تفریق طلاق کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ |
٤٣٧ |
"اگر تو زن منی یك طلاق دو طلاق سہ طلاق"کہنے سے طلاق ہوگی یانہیں۔ |
٤٤٢ |
|
مدخولہ جمعًا وتفریقًا تین طلاق تك کی صالحہ ہے زیادہ کی نہیں کہ تین سے آگے طلاق ہی نہیں۔ |
٤٣٧ |
بیوی سے مرد نے کہا"ان خرجت یقع الطلاق"یا یُو کہا"میرے اذن کے بغیر مت نکلنا کیونکہ میں نے طلاق کی قسم کھائی ہے"۔ وہ عورت نکلی تو طلاق نہ ہوگی۔ |
٤٤٢ |
|
کلام جب تك مؤثر بن سکے گا لغو نہ ٹھہرائیں گے۔ |
٤٣٧ |
مر دطلاق نہ دینے کی قسم کھائے اور عورت طلاق دینے کی، اعتبار شوہر کی قسم کاہوگا، لیکن عورت جس طرح ممکن ہو چھٹکارا حاصل کرے۔ |
٤٤٣ |
|
ایسا دعوٰی جسمیں کوئی حصہ کلام کا لغو جاتا ہو تسلیم نہ کریں گے۔ |
٤٣٨ |
گواہ ثقہ اور عادل ہوں تو شوہر کا انکار کچھ کام نہ دے گا، طلاق ثابت ہوجائے گی۔ |
٤٤٤ |
|
جسکے پاس دو٢ زوجہ ہوں وہ بلاتعیین اپنی عورت کو طلاق دے دے تو اس کو اختیار ہے کہ وُہ طلاق جس کی طرف چاہے پھیردے تعیینِ مطلقہ میں اس کا بیان معتبر ہوگا جب تك اس کے قبول میں کلام کا لغو ہونا لازم آتا ہو۔ |
٤٣٨ |
گواہ ثقہ عادل نہ ہو اور شوہر منکرِطلاق ہو تو اس کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہوگا۔ |
٤٤٤ |
|
زید دو طلاق کا اقراری ہے۔ عمرو ہندہ وصفیہ بیان کرتےہیں کہ ہم سے کہا کہ"تین طلاق دیتا ہوں"ایسی صورت میں طلاق مغلّظہ نہ ثابت ہونے کا بیان۔ |
٤٤٠ |
گواہ شرعی موجودنہ ہوں تو قسم لینے کےلئے عورت کا شوہر منکرِ طلاق سے گھر میں قسم لے لینا کافی ہے۔ |
٤٤٤ |
|
آج کل عدالت شرعیہ مردوں میں کم ہے اور زنان ناقصات العقل میں ثقہ شرعیہ ہندوستان میں شاید گنتی کی ہوں۔ |
٤٤٠ |
|
|
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع