30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لومات المعیب قبل الفسخ تقرر المھر ولافسخ[1]۔ |
عیب والا خاوند اگر فسخ سے قبل فوت ہوجائے تو مہر لازم ہوگا،فسخ نہ ہوگا۔(ت) |
بلکہ یہاں تو بالفرض اگر نکاح فسخ بھی کردیاجاتا جب بھی مہرمثل ساقط نہ ہوتا۔عبارتِ سوال سے ظاہر کہ شوہرکو اس مرض کا حدوث بعد زفاف ہوا تو بحالتِ فسخ بھی پورا مہر لازم الادا۔انوارمیں ہے:
|
اذافسخ فان کان قبل الدخول سقط المہر ولامتعۃ،فسخ ھواوھی وان کان بعدہ فان کان بعیب مقارن او حادث قبل الدخول وجب مھر المثل وان کان بحادث بعدہ وجب المسمی[2]۔ |
مردیا عورت نے نکاح فسخ کیا تو اگریہ فسخ دخول سے قبل ہُوا تو مہر ساقط ہوجائےگا،اور جوڑا ساقط نہ ہوگا،اور اگر فسخِ نکاح دخول کے بعد ہُوا تو اگر دخول کے ساتھ یا دخول سے قبل، عیب پیداہُوا تو مہر مثل واجب ہوگا،اور دخول کے بعد عیب پیدا ہواتو پھر مقررہ مہر واجب ہوگا۔(ت) |
رہا نان ونفقہ وُہ بعد موتِ شوہر زمانہ عدّت یا اس کے بعد کا باتفاقِ مذہب صحیح حنفی وشافعی اصلًا واجب نہیں،اس کے دینے سے ورثہ انکار کرتے ہوں تو بیشك بجا ہے۔درمختار میں ہے:
|
لاتجب النفقۃ بانواعھا لمعتد ۃ موت مطلقا ولو حاملا[3]۔ |
کسی قسم کا نفقہ موت کی عدّت والی کے لئے مطلقًا واجب نہ ہوگا اگرچہ حاملہ ہو۔(ت) |
انوارِ شافعی میں ہے:
|
المعتدۃ عن النکاح الفاسد لانفقۃ لھا حاملاکانت او حائلا وکذاالممتدۃ عن الوفاۃ[4]۔ |
نکاح فاسد کی عدّت والی کے لئے کوئی نفقہ نہیں،حاملہ ہو یا غیر حاملہ ہو،اور یہی حکم موت کی عدت والی کا ہے۔(ت) |
حاشیۃ الکمثری علی الانوار میں ہے:
|
المعتدۃ عن الوفاۃ لاتستحق النفقۃ والمؤنۃ |
موت کی عدت والی نفقہ اور خرچہ کی مستحق نہیں ہے، |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع