30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور ائمہ شافعیہ کے یہاں اگرچہ جنون و جذام مستحکم وبرص مستحکم سے خیارِ فسخ حاصل ہوتا ہے مگراس کے یہ معنی نہیں کہ ان امراض کے سبب آپ ہی نکاح زائل یا عورت کو بطورِ خود فسخِ نکاح کااختیار حاصل ہوجائے بلکہ یہ معنی کہ فی الفور بلاتاخیر قاضی شرع کے حضور مطالبہ فسخ پیش کرنے کا اختیار ملتا ہے،جب وُہ حکمِ فسخ دے اس وقت نکاح فسخ ہوتا ہے،بغیر اس کے وُہ بدستور زوج وزوجہ ہیں۔امام علامہ یوسف اردبیلی رحمہ اﷲتعالٰی علیہ کہ اجلّہ شافعیہ سے ہیں کتاب الانوار میں فرماتے ہیں:
|
لایثبت بالبرص والجذام قبل الاستحکام خیار العیب علی الفور ولاینفردان بالفسخ بل لابدمن الرفع الی القاضی١[1]اھ ملتقطا۔ |
برص اور جذام کے مستحکم ہونے سے قبل فوری طور پر خیار عیب ثابت نہیں ہوتا،اور خاوند بیوی خود فسخ نہیں کرسکتے بلکہ قاضی کے ہاں مرافعت ضروری ہے اھ ملتقطا(ت) |
یہاں جبکہ نہ حاکمِ شرع کی طرف مرافعہ ہُوا،نہ اس نے فسخِ نکاح کا حکم دیا بلکہ عورت بطورِ خود اپنی ماں کے یہاں چلی گئی تو باتفاقِ ائمہ نکاح قائم رہا پس بنص قطعی قرآن عظیم وہ اس کے ترکہ میں مستحق فریضۃاﷲ ہے۔
|
قال اﷲتعالٰی: وَلَہُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْتُمْ اِنۡ لَّمْ یَکُنۡ لَّکُمْ وَلَدٌ ۚ فَاِنۡ کَانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَہُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکْتُمۡ مِّنۡۢ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ تُوۡصُوۡنَ بِہَاۤ اَوْدَیۡنٍ ؕ٢[2]۔ |
اﷲتعالٰی نے فرمایا:اگر تم نے ترکہ چھوڑا اور تمہاری اولاد نہ ہوتو بیویوں کو ترکہ کا چوتھائی حصّہ،اور اگر تمہاری اولاد ہوتو پھر بیویوں کو تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں حصّہ ملے گا،یہ تقسیمِ وراثت تمہاری وصیت اور قرضہ ادا کرنے کے بعد ہے۔ (ت) |
وراثتِ زوجہ بلاشبہہ ضروریات دین سے ہے جس پر تمام فرقِ اسلام کااجماع اور ہر خاص وعام کو اس کی اطلاع،تو مطلقًا اس کا انکار یعنی یہ کہنا کہ زوجیت شرع میں ذریعہ وراثت ہی نہیں صریح کلمہ کفر ہے،ہاں اگر براہِ ناواقفی عروضِ جذام کو خود مزیلِ نکاح سمجھ کر اس عورت کے استحقاقِ وراثت سے انکار کیا تو جہل وسفاہت باتفاق اور شرع مطہر پر بے باکانہ جرأت ہے کُفر نہیں،بالجملہ صورتِ مسئولہ میں عورت یقینا مستحق ترکہ ہے،یونہی باتفاق مہر مسمّی تمام وکمال واجب الاداہے،حنفیہ کے طور پر تو ظاہر ہے،شافعیہ کے نزدیك یُوں کہ شوہر قبل انفساخ نکاح مرگیا،انوارمیں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع